سلسلہ احمدیہ — Page 656
656 کا پیغام پہنچ جاتا۔۱۹۴۶ء میں محترم مولانا جلال الدین شمس صاحب نے ایک کتابچہ Where died Jesus بڑی تعداد میں شائع کروایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں جو دلائل بیان فرمائے ہیں ، ان سے عیسائی عقیدہ کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔چنانچہ برطانوی پر لیس میں بھی اس کتابچے کی اشاعت کا چر چاہو ا۔(۹) مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب دس سال انگلستان میں مبلغ کے فرائض سرانجام دینے کے بعد اکتوبر ۱۹۴۶ء میں واپس قادیان تشریف لائے۔آپ کے ساتھ مکرم سید منیر احصنی امیر جماعت احمدیہ دمشق بھی تھے۔آپ کی مراجعت کے بعد مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب امام مسجد لندن اور مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب نائب امام مقرر ہوئے۔(۱۰) دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر انگلستان میں تبلیغ نئے سرے سے شروع کی گئی اور لندن کے علاوہ گلاسکو،ایڈنبرا، برمنگھم ، آکسفورڈ ، نوٹنگھم، برائٹن ، بریڈ فورڈ ، لیڈز، پریسٹن ، ہیڈرز فیلڈ ، شیفیلڈ، ساؤتھ ہال، مانچسٹر اور لیور پول میں تبلیغ کے کام کا آغاز کیا گیا۔اب تک مرکز سے آئے ہوئے متعدد واقفین زندگی انگلستان میں خدمات سرانجام دے چکے تھے لیکن ابھی یہاں کے باشندوں میں سے کسی کو یہ سعادت نہیں ملی تھی کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرے۔سب سے پہلے یہ اعزاز مکرم بشیر آرچرڈ صاحب کے حصے میں آیا۔آپ وقف کرنے سے پہلے کئی مرتبہ قادیان جاچکے تھے۔فوجی خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ نے صرف دو روز اپنے شہر برسٹن میں قیام کیا اور تیسرے روز لندن مشن میں پہنچ کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جماعت احمدیہ کے مبلغ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔مکرم شمس صاحب نے ان اہم فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جو ایک مبلغ پر عائد ہوتی ہیں اور کچھ عرصہ تو قف کرنے کو کہا۔کچھ توقف کرنے کے بعد مکرم بشیر آرچرڈ صاحب نے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔حضور نے ان کے وقف کو قبول فرما لیا اور انہوں نے مشن میں رہ کر اخلاص اور جوش سے تبلیغ کے فرائض ادا کرنے شروع کئے۔دسمبر ۱۹۴۵ء میں آپ کو مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے قادیان جانے کو کہا گیا۔اور یکم مئی ۱۹۴۶ء میں آپ قادیان تشریف لے آئے۔اُس وقت آپ کی عمر ستائیس برس تھی۔قادیان میں