سلسلہ احمدیہ — Page 655
655 تھے۔مکرم مولا نا شمس صاحب نے ان کے ساتھ کئی مباحثے کئے۔پہلا مناظر ہ۲ جون ۱۹۴۴ء کو ہوا۔قرار یہ پایا کہ وہ پہلے دو گھنٹے قرآن مجید پر جتنے چاہیں اعتراض کریں۔پھر ان کا جواب دیا جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا تصرف ایسا ہوا کہ وہ پہلے مباحثات میں جو اعتراضات کرتا رہا تھا وہ بھی پیش نہ کر سکا۔انہوں نے جو نوٹ لکھے ہوئے تھے وہ بھی غلط تھے۔اور انہوں نے قرآنی آیات کے غلط حوالے پیش کر کے خود اپنے آپ کو مشکل میں مبتلا کر لیا۔دوسرا مباحثہ ۱۶ جون کو ہو ا جس میں شمس صاحب نے اناجیل کے متعلق سولات پیش کرنے تھے۔جب یہ سوالات اٹھائے گئے تو ان سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔بعض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اعتراض میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اس لئے میں جواب نہیں دے سکتا۔اور اکثر کے متعلق انہوں نے کہا کہ میں تیاری کر کے جواب دوں گا۔اس سے حاضرین پر ان کی بے بسی ظاہر ہو گئی۔مقامی پریس نے بھی ان مباحثوں پر تبصرہ کیا۔لیکن ان اوروہ کے بعد مسٹر گرین جماعت احمدیہ سے مناظرے کرنے سے گریز کرنے لگے۔(۶۵) ان سخت حالات میں مکرم عبد العزیز ڈین صاحب نے مشن کی قابل قدر خدمات سرانجام دیں مسلسل جماعت کے مبلغین کی ہر طرح اعانت کرتے رہے۔جب دوسری جنگ عظیم کا جب خاتمہ ہوا تو مرکز نے نو مبلغین کا ایک قافلہ لندن روانہ کیا۔ان مبلغین نے چند ماہ مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب کی زیر نگرانی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد یورپ کے مختلف ممالک میں مشن کھولنے تھے۔ان مبلغین میں مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ، حافظ قدرت اللہ صاحب، ملک عطاء الرحمن صاحب، چوہدری اللہ دتہ صاحب، کرم الہی صاحب ظفر، چوہدری محمد الحق صاحب ساقی۔مولوی محمد عثمان صاحب۔مکرم ابراہیم خلیل صاحب ، اور مولوی غلام احمد بشیر صاحب شامل تھے۔روانگی کے وقت مولوی بشارت احمد صاحب نسیم اور محترم مولانا نذیر احمد صاحب علی (رئیس التبلیغ مغربی افریقہ ) بمع اہل و عیال بھی قافلے میں شامل ہو گئے۔مکرم مولوی بشارت احمد صاحب نسیم کا اس گروپ کے ساتھ جانے کا پروگرام نہیں تھا۔لیکن جب حضور نے ارشاد فرمایا تو آپ صرف چند گھنٹوں میں تیار ہو کر قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔(۸،۷) لندن میں پوری دنیا سے اہم شخصیات سرکاری دوروں پر آتی رہتی تھیں۔لندن مشن کے مبلغین ان سب سے رابطے کر کے ان کو حقیقی اسلام کا پیغام پہنچاتے۔اور اس طرح اس طبقے تک بھی اسلام