سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 641 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 641

641 جائزہ لیں گے یوگنڈا میں وہاں کی حکومت نے تمام ایشیائی باشندوں کو نکال دیا۔اُس وقت وہاں پر موجود مقامی احمدی ہی وہاں پر جماعت کے استحکام کا باعث بنے۔جوں جوں کام کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا مبلغین کی ضرورت بڑھتی جارہی تھی۔چنانچہ ۱۹۴۸ء میں دو اور مبلغین مکرم مولانا محمد منور صاحب اور مکرم مولا نا عبد الکریم شر ما صاحب بھی مشرقی افریقہ پہنچ گئے۔مکرم مولانا محمد منور صاحب نے نیروبی میں اور مکرم مولا نا عبد الکریم صاحب شرما نے ٹانگانیکا میں کام شروع کیا۔(۱۴) ۱۹۴۸ء میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا ترجمہ شائع کیا گیا۔اور اسی سال کینیا میں کا کا میگا کے علاقے میں Kisa کے مقام پر جماعت کی بنیاد پڑی اور کسومو کے قریب اسمبو (Asembo) کے مقام پر ایک چھوٹی سی مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔(۱۴) ٹانگانیکا کے جنوبی صوبہ میں عیسائیت کا بہت زور تھا اور وہ اپنے مشنوں کے ساتھ پورے زور کے ساتھ اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے۔مکرم فضل الہی صاحب بشیر نے لنڈی (Lindi) کے مقام کو مرکز کر بنا کر یہاں پر تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔مخالفت بھی شروع ہوئی اور احمدیوں کے سوشل بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں پر تین بھائی جو عربی بھی جانتے تھے احمدی ہو گئے اور انہوں نے بہت اچھے انداز میں احمدیت کی تبلیغ کا کام شروع کیا۔(۱۵) اسی دور میں ٹہورہ میں جماعت نے ایک چھوٹا سا پر لیس بھی حاصل کر لیا جو لندن سے منگوایا گیا تھا۔مکرم مولا نا جلال الدین صاحب قمر اور مکرم امری عبیدی صاحب اس پر بڑی جانفشانی سے کام کرتے رہے اور اس میں جماعت کے پمفلٹس اور دیگر لٹریچر شائع ہوتا رہا۔اپریل ۱۹۴۹ء میں احمدی مبلغین کی دوسری کا نفرنس رئیس التبلیغ مکرم شیخ مبارک صاحب کی صدارت میں نیروبی میں منعقد ہوئی۔اور اس میں جماعت کا بجٹ پیش ہوا ، اور حضور کے ارشاد کی تعمیل میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اس بجٹ کا بڑا حصہ کیشا ہی زبان اور مشرقی افریقہ کی دوسری زبانوں کے تراجم اور نبی کریم ﷺ کی سوانح حیات کی اشاعت میں خرچ کیا جائے گا۔جب کانفرنس منعقد ہوئی تو اس وقت مشرقی افریقہ میں ۲۱ مرکزی اور مقامی مبلغین کام کر رہے تھے۔(۱۶) دسمبر ۱۹۴۹ء میں نیروبی کی مسجد کے ساتھ ایک خوبصورت مشن ہاؤس کی تعمیر مکمل ہوئی۔چھوٹے