سلسلہ احمدیہ — Page 609
609 (Kenema) کے مقام پر تمام پیراماؤنٹ چیفس کا اجتماع ہورہا تھا۔سیرالیون کے گورنر جنرل بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔مولانا صدیق امرتسری صاحب بھی وہاں تبلیغ کے لئے پہنچ گئے۔اس اجتماع میں دو احمدی پیراماؤنٹ چیفس بھی آئے ہوئے تھے، ان کی کوششوں سے مولانا صدیق صاحب کو وہاں کی مسجد میں درس و تدریس کا موقع مل گیا۔اگر چہ یہ سلسلہ وہاں پر وہاں کے امام کی رضا مندی سے جاری تھا لیکن ، ایک روز نماز مغرب کے بعد وہاں پر کچھ مفسدین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔اس واقعہ کی اطلاع پا کر مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی بھی وہاں پر پہنچ گئے۔اور آپ کو چیفوں کے آخری اجلاس میں خطاب کرنے کا موقع دیا گیا۔اس موقع پر کئی لوگ بیعت کر کے میں داخل ہوئے اور بعض چیف صاحبان نے انہیں اپنے علاقے میں آکر تبلیغ کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ ان کی خواہش پر ان کے علاقوں کے دورے کئے گئے اور وہاں پر مختلف مقامات پر جماعتیں قائم ہوئیں۔(۵) اللہ تعالیٰ جہاں پر بھی جماعت کو ترقی عطا فرماتا ہے ،وہاں پر مخالفت کا شدید تر ہو جاتی ہے۔پہلے باؤکا ہوں (Baowahun) میں جماعت کے قیام کا ذکر کیا جا چکا ہے۔یہاں پر احمدی ہونے والوں کی اکثریت یہاں کے مقامی باشندے نہیں تھے بلکہ کاروبار کے سلسلے میں اس گاؤں میں منتقل ہوئے تھے۔اور مقامی قانون کے تحت انہیں ویسے حقوق حاصل نہیں تھے جو اس چیفڈم کے اصلی باشندوں کو حاصل تھے۔عیسائیوں اور غیر احمدی مسلمانوں نے مل کر وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف کو جماعت کی مخالفت پر اکسایا۔چنانچہ احمدیوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔کبھی انہیں جرمانہ کیا گیا، کبھی اُن کے مبلغ کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔مبلغین کا بہت سا وقت ان مقدمات میں ضائع ہوا۔لیکن چیف کی شکایات کے باوجود گورنمنٹ نے اس گاؤں میں جماعت کو اسکول اور دارالتبلیغ کے لئے زمین دینے کا فیصلہ کیا۔اور یہاں پر بھی جماعت کے اسکول نے کام شروع کر دیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان دنوں جماعت سیرالیون کو مرکز کی طرف سے صرف پانچ پاؤنڈ سالانہ کی مدل رہی تھی۔اور اتنے فعال مشن کی سرگرمیوں کے باقی اخراجات مقامی احمدی احباب کی مالی قربانیوں سے پورے کئے جاتے تھے۔(1) جب کسی مقام پر احمدیت تیزی سے ترقی کر رہی ہو اور نئے احباب جماعت میں شامل ہو۔