سلسلہ احمدیہ — Page 608
608 رکھو۔چیف صاحب نے اس کی بھی اطاعت کی۔اللہ تعالیٰ نے اُن پر فضل کیا اور وہ جلد تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہو گئے۔اب انہوں نے درخواست کہ ان کی تمام چیفڈم میں احمدیت کی تبلیغ کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ ایک مقامی احمدی مکرم الفا مصطفے صاحب کو وہاں پر مبلغ مقرر کیا گیا۔(۱-۲)۔یہاں جماعت قائم ہوئی اور مسجد بھی بن گئی۔پہلے یہاں کے لوگ زیادہ تربت پرست یا عیسائی تھے۔انہیں ایک چھوٹی سی جگہ پر اسلام کی یہ کامیابی بھی ناگوار گزری۔چنانچہ عیسائی مشنریوں نے ڈسٹرکٹ کمشنر کے پاس جا کر ان کے کان بھرنے شروع کئے اور انہیں احمدیت کی مخالفت پر اکسایا۔اس صورتِ حال میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی از خود ڈسٹرکٹ کمشنر کے پاس گئے اور انہیں جماعتِ احمدیہ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کہ انہیں ضلع میں جماعت کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔اور عیسائی مشنریوں کو جماعت کے مبلغ یا مقامی احمدیوں کے خلاف شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں۔(۳) جب مولانا نذیر احمد صاحب علی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ملنے جا رہے تھے تو آپ نے راستے میں دو ہفتہ کے لئے Wando چیفڈم میں قیام کیا اور دو ہفتہ وہاں رہ کر تبلیغ کی۔اس کے نتیجے میں وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف نے احمدیت قبول کر لی اور اس چیفڈم میں دو مساجد بھی تعمیر کی گئیں۔مخالفت تو شروع ہو رہی تھی لیکن اس کے ساتھ جنوبی صوبہ میں خاص طور پر ,Gorama Lunya, Wando اور Small Bo کی چیفڈموں میں تبلیغ کا کام جاری تھا۔(۳) اب سیرالیون میں کام کی وسعت بڑھ رہی تھی۔چنانچہ مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ سیرالیون کے لئے ایک اور مرکزی مبلغ بھجوایا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے لندن میں مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس کو ارشاد فرمایا کہ وہاں سے مکرم مولانا صدیق امرتسری صاحب کو لندن سے سیرالیون بھجوادیا جائے۔اس ارشاد کی تعمیل میں مکرم صدیق امرتسری صاحب مارچ ۱۹۴۰ء کو سیرالیون پہنچ گئے۔(۴) مئی ۱۹۴۰ء میں مکرم مولانا صدیق امرتسری صاحب کو Baowahun بھجوا کر مولانا نذیر احمد صاحب علی نے Magburaka اور Makeni جا کر احمدیت کا پیغام پہنچایا۔۱۹۴۰ء کے نومبر میں سیرالیون کے مشرقی صوبہ میں احمدیت کو مزید مستحکم ہونے کا موقع اس طرح ملا کہ یہاں پر کینیما