سلسلہ احمدیہ — Page 601
601 مکرم عمری عبیدی صاحب کی وفات ۱۹۶۴ء میں جماعت احمدیہ کو مکرم عمری عبیدی صاحب کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔آپ کی وفات سے جہاں ایک طرف پوری دنیا کے احمدیوں کے دلوں کو صدمہ پہنچا وہاں یہ اپنے ملک تنزانیہ کے لئے بھی ایک عظیم نقصان تھا۔آپ کے والد کا نام عبیدی تھا۔وہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی کہا کرتے تھے کہ مجھے ایک ایسا بیٹا دیا جائے گا جو خاندان کا شیر ہوگا۔عمری عبیدی صاحب کی پیدائش ۱۹۲۴ء میں ہوئی۔آپ ابھی سکول میں ہی تھے کہ آپ کو مشرقی افریقہ میں جماعت کے مبلغ مکرم شیخ مبارک احمد صاحب سے تعارف ہوا۔اور آپ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ جماعت کے مشن میں آنا جانا شروع کیا۔آپ نے ابھی بیعت نہیں کی تھی لیکن آپ نہایت توجہ سے سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ فرماتے تھے۔آپ کے ہم جماعت بیان کرتے تھے کہ عمری عبیدی صاحب کے دوست کھیل کود میں مشغول ہوتے لیکن آپ درخت کے سایہ میں بیٹھ کر مطالعہ میں اس قدر منہمک رہتے کہ آپ کے دوستوں کو خدشہ ہو گیا کہ کہیں اس انہاک کی وجہ سے آپ کے ذہن پر اثر نہ ہو جائے۔اسی وقت سے آپ کو سچی خوا ہیں آنے لگیں۔اس سے آپ کے ایمان کو بہت تقویت ملی۔جب آپ نے گورنمنٹ سکول ٹو را سے تعلیم مکمل کی تو آپ اپنے علاقے بکو با جانے سے قبل کچھ عرصہ کے لئے ٹبورا میں شہر گئے۔اور مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کی تحریک پر ان سے قاعدہ میسرنا القرآن پڑھنا شروع کیا۔چند دنوں میں آپ نے قاعدہ ختم کر کے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔اور سلسلہ کی بعض اور کتب بھی پڑھتے رہے۔اپنے علاقہ میں جا کر آپ نے احمدیت کی تبلیغ کی اور جماعت کا سواحیلی لٹریچر بھی تقسیم کیا۔اور مکرم شیخ مبارک احمد صاحب کو بھی بکو با آنے کی دعوت دی۔مگر ابھی تک آپ نے بیعت نہیں کی تھی۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے جب دیکھا کہ آپ احمدیت کی طرف مائل تو ہیں لیکن ابھی تک آپ نے بیعت نہیں کی تو انہوں نے آپ کو حضرت مسیح موعود کی تصنیف کشتی نوح کا سواحیلی ترجمہ یہ کہہ کر دیا کہ وہ یہ جائزہ لے لیں کہ اس میں گرائمر کی کوئی غلطی