سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 590 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 590

590 پہاڑوں پر اور باسفورس کے پانیوں پر بھی صلیب کی شعائیں پہنچ رہی ہیں اور یہ اُس روز کا یقینی پیش خیمہ ہے جب قاہرہ، دمشق اور تہران یسوع مسیح کے غلام ہوں گے۔اور عرب کا سکوت بھی ٹوٹے گا اور مسیح اپنے مریدوں کے روپ میں مکہ کے کعبہ میں داخل ہوگا اور پھر وہاں پر مکمل سچ بولا جائے گا۔یہ ابدی زندگی ہے تا کہ وہ تجھے جائیں۔تو جو ایک ہی سچا خدا ہے اور مسیح جسے تو نے بھیجا ہے۔(۴) پادریوں کے عزائم واضح تھے۔اب وہ دنیا سے اسلام کو مٹانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔اپنے مذہب کے غلبہ کے لئے دنیاوی چکا چوند کا سہارا لینا صرف بیروز صاحب تک محدود نہیں تھا۔اُس زمانے میں یہ ایک عام طریق تھا۔چنانچہ ۱۹۰۴ء میں جب چرچ کی طرف سے اپنے مشن کی سرگرمیوں پر کتاب The Missions of church missionary society and the church of England Zenana missionary society in The Punjab and Sindh شائع کی تو اس کے شروع میں ایک صفحے پر انگریز گورنروں اور بڑے افسران کی تصویریں نمایاں کر کے شائع کرنا ضروری خیال کیا۔ان تصویروں کے نیچے عنوان درج کیا گیا تھاOur Christian Rulers۔اُس دور میں ملک انگریزوں کے قبضے میں تھا۔اس طریق پر چرچ کمزور دلوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اسی دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت تمام انسانیت کو اپنے خالق کی طرف بلا رہے تھے۔آپ نے بیان فرمایا کہ زندہ مذہب وہ مذہب ہے جو خدا شناسی کا ذریعہ بنے جس کی صحیح تعلیمات پر عمل کر کے انسان کو یقین حاصل ہو، اس کی دعائیں قبول ہوں۔اس پس منظر میں ، اسی سال ۱۸۹۷ء کے دوران ، ایف سی کالج لاہور کے ایک پروفیسر سراج دین صاحب قادیان آئے۔یہ صاحب پہلے مسلمان تھے مگر پھر انہوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔جب آپ چند دن قادیان میں رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عیسائیت اور اسلام سے متعلق مختلف مسائل پر گفتگو کی تو پھر اسلام کی فضیلت کے قائل ہو گئے۔اور نماز بھی پڑھنے لگ گئے مگر جب لاہور واپس گئے تو پھر پادریوں کے جال میں آگئے اور عیسائیت اختیار کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں چار سوال بھجوائے۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے ان اعتراضات کا جواب تحریر فرمایا