سلسلہ احمدیہ — Page 531
531 اور حضرت طلحہ پر مشتمل ایک مجلس قائم فرمائی جو آپ کی وفات کے بعد اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کرے۔حضرت عثمان کی شہادت جن دردناک حالات میں ہوئی اس کا ذکر گذر چکا ہے۔اُس وقت نہ تو حضرت عثمان نے کسی کو خلیفہ نامزد کیا تھا اور نہ ہی کوئی مجلس قائم فرمائی تھی جو نئے خلیفہ کا انتخاب کرے۔جب حضرت عثمان کی شہادت کے معاً بعد صحابہ جمع ہوئے تو صحابہ نے حضرت علی سے عرض کی کہ لوگوں کے لئے ایک نہ ایک امام کی ضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اور آج ہم روئے زمین پر آپ سے زیادہ کسی کو اس کا حقدار نہیں پاتے۔حضرت علی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ تم کسی اور کو اپنا امیر بنا لو اور مجھے اُس کا وزیر رہنے دو۔مگر وہاں پر موجود صحابہ نے آپ کی بیعت پر اصرار کیا۔اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ جب تم مجھے مجبور کر رہے ہو تو بیعت مسجد میں ہونی چاہئیے۔تا کہ لوگوں پر میری بیعت مخفی نہ رہے۔پھر مہاجرین اور انصار نے مسجد نبوی میں جمع ہو کر آپ کی بیعت کی (۲)۔مگر اُس وقت کے فتنہ کی آگ ہر طرف بھڑ کی ہوئی تھی ، اس لئے مسلمانوں میں انتشار کا آغاز ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد تمام جماعت نے حضرت حکیم نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی اور اسطرح آپ خلیفہ اسیج اول قرار پائے ۱۹۱۰ء میں جب حضرت خلیفہ المسیح الاول گھوڑی پر سے گر کر زخمی ہوئے تو آپ نے ایک بند لفافے میں آئیندہ خلیفہ کے متعلق وصیت لکھ کر اپنے ایک شاگرد کو دی۔مگر طبیعت صحیح ہونے پر اس کو واپس لے لیا۔اپنی آخری بیماری کے دوران ۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ ”میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز عالم باعمل،حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی درگزر کو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔(۳) چنانچہ حضرت خلیفقہ اسیع الاول کی وفات کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو طریقہ اسیح الثانی منتخب کیا گیا اور مسجد نور میں آپ کی بیعت کی گئی۔اس مرحلہ پر منکرین خلافت علیحدہ ہو گئے اور لاہور میں اپنی ایک علیحدہ تنظیم قائم کر لی۔۱۹۱۸ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی پر انفلوائنزا کا شدید حملہ ہوا۔اس حالت میں حضور نے اپنی وصیت حضرت مولوی شیر علی کو لکھوائی اور اُن کی ہی