سلسلہ احمدیہ — Page 530
530 قواعد انتخاب خلافت جب ایک خلیفہ راشد کی وفات ہوتی ہے تو یہ وقت الہی جماعتوں کے لئے بہت نازک ہوتا ہے۔ایک قسم کی قیامت برپا ہوتی ہے۔اُس وقت جہاں اپنے گھبرائے ہوتے ہیں وہاں دشمن اس امید سے جماعت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید اب ان میں انتشار پیدا ہو۔اُس لمحے ہر مؤمن اس دعا میں مصروف ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ہاتھ دکھائے اور پھر سب ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں۔تاریخ شاہد ہے کہ اس مرحلہ پر ذرا سی غفلت کا خمیازہ صدیوں تک بھگتنا پڑتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں جماعت کو اپنی وفات کے بعد ایک دوسری قدرت کے ظہور کی خوشخبری دی وہاں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو حاصل کرنے کے لئے دعاؤں کی تلقین بھی فرمائی۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں سوتم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکھٹے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئیے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکھٹے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھا دے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔(۱) تاریخ اسلام میں ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک خلیفہ نے اپنی زندگی میں اگلے خلیفہ کو نامزد کر دیا اور ایسا بھی ہوا ہے کہ خلیفہ وقت نے ایک مجلس نامزد کر دی جو اُس کی وفات کے بعد نئے خلیفہ کا انتخاب کرے۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور تجویز کیا کہ امیر انصار میں سے ہو یا ایک امیر انصار میں سے اور ایک امیر مہاجرین میں سے ہو۔اور اس طرح تفرقہ کا خطرہ پیدا ہوا۔لیکن جب حضرت ابو بکر نے وہاں جا کر تقریر کی تو لوگوں کے دل بدلنے شروع ہوئے۔اور سب نے حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔اور اس طرح اسلام میں خلافتِ راشدہ کا با برکت آغاز ہوا۔حضرت ابو بکر نے اپنی آخری بیماری میں حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد فرمایا۔اور اس مضمون کی تحریر حضرت عثمان کو لکھوائی جو لوگوں کو پڑھ کر سنادی گئی۔جب حضرت عمرہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ نے حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت زبیر