سلسلہ احمدیہ — Page 496
496 جواب دیا کہ آپ کو آپ کے نفس دھوکہ دے رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ بنتا تو بھی آپ میری اطاعت نہ کرتے۔میں اب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہر گز نہ مانو۔اس پر اُن سے رابطہ کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہمیں حکم دیں پھر۔پھر دیکھیں ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا نہیں۔صاحبزادہ عہدائی صاحب نے کہا کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں بچے ہو تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کر لو۔یہ بات سن کر وہ شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ تو نہیں ہوسکتا۔اور ۱۹۳۷ء میں مولوی عبد الوہاب صاحب نے خود اپنے ایک مضمون میں یہ واقعہ لکھا تھا (9) اس کے بعد پیغامیوں نے حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رابطہ کر کے کہا کہ ہم تو آپ کے بیٹے کی بیعت کر کے انہیں خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔حالانکہ جیسا کہ کتاب کے حصہ اول میں ذکر آچکا ہے یہ لوگ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے دور خلافت میں انہیں طرح طرح کی تکالیف دیتے رہے تھے۔اور حضرت اماں جی نے اس بات کا ذکر خود حضرت مصلح موعودؓ سے کیا تھا (۱۰)۔لیکن ان ابتدائی کوششوں کی ناکامی کے بعد منکرین خلافت نے حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی چھوٹی اولاد کو اپنا نشانہ بنا کر کوششیں شروع کیں کہ وہ خلافت کے خلاف سازش میں اُن کے آلہ کار بن جائیں۔پھر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو اطلاعات ملیں کہ حضرت خلیفہ اسی الاول کے بیٹوں نے اپنے بھانجے مولوی اسماعیل غزنوی کے ساتھ مل کر حضرت مصلح موعودؓ کے خلاف مہم چلانے کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔مولوی اسماعیل غزنوی جماعت کے شدید مخالفین میں سے تھے۔اس مہم کے پہلے حصہ میں مالی الزامات لگائے گئے ، مگر جب اس میں ناکامی ہوئی تو پھر اخلاقی الزامات لگانے کا منصوبہ بنایا گیا۔حضور کی ہدایات کے تحت حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی مدیر الحکم اور حضرت عبدالرحیم صاحب درڈ نے تحقیقات کیں اور بر وقت کاروائی سے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسی الاول کے کچھ بیٹے مسلسل حضرت خلیفہ المسیح الثانی پر اعتراضات کرتے رہتے۔اور یہ باتیں ان کے لئے روز مرہ کا معمول تھیں۔یہ دیکھتے ہوئے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ اب تو یہ حد سے بڑھ چکے ہیں، باتیں سن سن کر کان پک چکے ہیں، دل جل اُٹھا ہے۔اب آپ کو کچھ کرنا چاہئیے۔اس پر حضور نے جواب دیا کہ اکبر نے اپنے کو کا ( دودھ شریک بھائی) کی شکایت سن کر کہا تھا کہ اس کے اور