سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 495 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 495

495 کوشش کر رہا تھا اور پیغام صلح اور ملکی اخبارات بھی پہلے بھی جماعت اور خلافت احمدیہ کے خلاف لکھتے رہے تھے لیکن اب اچانک ان کا ایک ساتھ ایک منظم مہم کا حصہ بن جانے کی ایک وجہ تھی اور وہ وجہ حضرت خلیفتہ المسیح لثانی کی بیماری تھی۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفتہ مسیح الثانی پر بیماری کا شدید حملہ ہوا اور پھر یورپ تشریف لے جانے تک آپ چند مواقع کے علاوہ نماز پڑھانے یا خطبہ دینے کے لئے تشریف نہ لا سکے۔اس کے ساتھ ملکی اخبارات نے خبریں لگانی شروع کیں کہ حضور کی بیماری کی وجہ سے جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور جانشینی کے مسئلہ پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔اور جب حضور علاج کے لئے یورپ تشریف لے جارہے تھے تو مولوی عبد الوہاب صاحب نے ، جو حضرت خلیفہ اسی الاول کے بیٹے تھے ،لاہور میں احمدیوں میں یہ باتیں شروع کر دیں کہ خلیفہ کا دماغ خراب ہو گیا ہے ( نعوذ باللہ ) ،خلیفہ بوڑھا ہو گیا ہے ،لوگ پاگل ہیں جو پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ان کو چاہئیے کہ نیا خلیفہ مقرر کر لیں۔کیوں نہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب یا مرزا بشیر احمد صاحب جیسے لائق آدمیوں میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔ان کے لاج پر اتنی رقم خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اس کے ساتھ انہوں نے یہ باتیں شروع کر دیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تحریر فرمودہ تفسیر کبیر کی بجائے مسجد میں کوئی عام فہم درس ہونا چاہیئے۔اور اس قسم کی بخشیں چھیڑنے کی کوششیں کی گئیں کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اور بنیادی باتوں میں بھی خلیفہ وقت سے اختلاف جائز ہے۔اکثر لوگ تو یہ باتیں سن کر منہ پر سنادیتے لیکن چندلوگ ایسے بھی تھے جو ان کے ساتھ مل کر اس قسم کا پراپیگنڈا کر رہے تھے۔اور مولوی وہاب صاحب با وجود منع کرنے کے جماعت احمدیہ کی مسجد میں تقریر بھی کرنے کی کوشش کرتے اور ان خیالات کا اظہار کرتے۔(۸) یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ مولوی عبد الوہاب صاحب اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔کئی سال سے پیغامیوں اور اُن کے روابط تھے۔جب حضرت خلیفہ اسی الاول کی وفات کے بعد پیغامی خلافت سے منحرف ہو کر علیحدہ ہوئے تو انہوں نے حضرت خلیفۃ اسیح الاول کے صاحبزادے عبدالحی صاحب سے رابطہ کیا جو اُس وقت پندرہ سال کے تھے اور کہا کہ اگر آپ خلیفہ بن جاتے تو ہم آپ کی اطاعت کرتے۔اسپر باوجود کم عمری کے صاحبزادہ عبدالحی صاحب نے