سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 491 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 491

491 واقعات سے جعل سازی اتنی واضح نظر آتی تھی کہ ان کی روئیداد سنتے ہی اکثر صحابہ نے یہی کہا کہ یہ تمہارا بنایا ہوا مکر ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس طرح تھی کہ ان فتنہ پروروں کو پھلنے پھولنے کا اتنا موقع مل گیا کہ بالآخر انہوں نے حضرت عثمان کو شہید کر دیا۔جب یہ مفسدین مدینہ پر قابض ہوئے تو وہ لوگ جو کل تک انہیں کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے ، ان پر قابو پانے سے قاصر رہے۔جب حضرت عثمان کو شہید کرنے کے لئے باغیوں نے مدینہ پر یورش کی تو عبداللہ بن سبا مصر سے مدینہ کے قریب تک آکر ارد گرد منڈلاتا رہا مگر مدینہ میں داخل نہیں ہوا۔دنیا سامنے اور چہرے دیکھ رہی تھی مگر اصل میں کسی اور کا ہاتھ اس سازش کے پیچھے کار فرما تھا۔اس شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلافات کا المناک باب شروع ہو گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف اسلام میں اختلافات کا آغاز میں ان حالات کا جائزہ اس انداز میں پیش فرمایا ہے ، جس سے شبہات کی دھند چھٹ کر حقائق سامنے نظر آنے لگتے ہیں۔اور اس فتنے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔فتنے کے المناک نتائج: اس عظیم سانحے کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کے دلوں میں خلافت کی اہمیت ختم ہوگئی۔اور جب مسلم معاشرے میں ایسے خیالات پہنچنے لگے تو پھر اس بدنصیبی کی کوکھ سے خوارج نے جنم لیا۔ان کا آغاز جنگ صفین کے موقع پر ہوا جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ کی افواج ایک دوسرے کے مقابل پر صف آراء تھیں۔خوارج ہزاروں کی تعداد میں حضرت علی کے خلاف یہ نامعقول اعتراض کر کے علیحدہ ہو گئے کہ انہوں نے ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ قبول کر کے غلطی کی ہے کیونکہ الحکم اللہ ، حکم تو صرف خدا کے لئے ہے اور صرف کتاب اللہ کی رو سے ہونا چاہئیے۔حالانکہ فیصلہ ہوا ہی یہ تھا کہ ثالث فیصلہ قرآنِ کریم کی رو سے کریں گے۔خوارج کئی گروہ بنے اور ان کے مختلف فرقوں کے عقائد ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن خلافت کے خلاف سرکشی ان میں ایک قدر مشترک تھی۔ان میں سے نجدیہ فرقہ کا نظریہ تھا کہ امام کا مقرر ہونا ضروری نہیں اور پھر یہ نظریہ ان میں رائج ہونے لگا کہ اگر لوگ ایک دوسرے سے انصاف کا برتاؤ کریں تو امام کی یا حکومت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ان میں سے بعض گروہ ایک شخص کو امام تسلیم کر کے اُس کی بیعت کرتے اور پھر