سلسلہ احمدیہ — Page 490
490 بہکانے میں نہیں آئے۔صرف چند لوگ اُن کے ساتھ ملے جن میں حضرت ابوبکر صدیق کا بیٹا محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ شامل تھے۔محمد بن ابی حذیفہ کو حضرت عثمان نے پالا تھا اور اُس پر بہت سے احسانات کئے تھے لیکن اس نے اس بنا پر کہ اُس کی خواہش کے باوجود حضرت عثمان نے اُسے گورنر کیوں نہیں مقرر کیا، آپ کی مخالفت شروع کر دی۔پھر عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں کی ریشہ دوانیوں سے عمرو بن العاص جیسے لوگ بھی ان کے ساتھ حضرت عثمان کے خلاف افواہیں اڑانے والوں میں شامل ہو گئے۔عمرو بن العاص کو اس کی نا اہلیوں کی وجہ سے حضرت عثمان نے گورنری سے ہٹایا تھا اور اس کے دل میں آپ کے خلاف کینے کی آگ سلگ رہی تھی۔یہاں تک کہ جب اسے آپ کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے فخر سے شعر پڑھے کہ میں نے ان کے خلاف لوگوں کو بھڑ کایا یہاں تک پہاڑی پر رہنے والے چرواہے کو بھی میں نے ہی ان کے خلاف بھڑ کا یا تھا۔ان لوگوں کی ہمت اسی وقت تک ہوتی تھی جب تک ان سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے یا پھر وہ طاقت میں اپنے مد مقابل سے زیادہ ہوں۔جب کوئی گورنر ان سے نرمی کا معاملہ کرتا تو وہ اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے مگر جب عبد الرحمن بن خالد بن ولید جیسے گورنر ان پر جائز بختی بھی کرتے تو وہ فوراً جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے اور ان میں سے اشتر جیسے سرکش بھی حضرت عثمان سے عاجزی سے معافیاں مانگنا شروع کر دیتے۔حضرت عثمان ان سے کمال شفقت کا معاملہ کر کے انہیں معاف کرتے تو کچھ عرصہ بعد یہ فتنہ پرور پہلے سے بھی زیادہ شرارتیں شروع کر دیتے۔ان مفسدین کا طریقہ یہ تھا کہ کسی پبلک جگہ پر مثلاً حج کے موقع پر ، جب لوگوں کا مجمع دیکھتے تو کسی سے حضرت عثمان کے متعلق اعتراض کے رنگ میں سوال کرنا شروع کر دیتے۔تا کہ سننے والوں میں سے کمزور طبع لوگوں کے دل میں وسوسہ ڈالا جا سکے۔حضرت عبد اللہ بن عمر جیسے زیرک لوگ اس فتنے کو بھانپ کر پوری وضاحت سے ایسا جواب دیتے کہ اعتراض خود بخو دغلط ہو جاتا (۴) مگر اکثر لوگ ایسی ذہانت نہیں رکھتے تھے کہ اس فتنے کی سنگینی کا اندازہ لگاسکیں اور بر وقت اس کا سد باب کر سکیں۔اس لئے کچھ نہ کچھ لوگ ان وسوسوں میں مبتلا ہوتے رہے۔جب ایک حصہ اُن کا ہمنوا بن گیا تو انہوں نے حضرت عثمان کے ایسے جعلی خط بنانے شروع کئے جن کو بنیاد بنا کر وہ الزام لگا سکیں کہ نعوذ باللہ حضرت عثمان نے اُن میں سے کچھ لوگوں کو قتل کرانے کی سازش کی ہے۔مگر