سلسلہ احمدیہ — Page 40
40 40 ترجمہ شائع کیا گیا۔۱۹۱۶ء میں جماعت احمد یہ سیلون نے مرکز کولکھا 'جب سے مسٹر عبد العزیز مرحوم کی کتاب احمد علیہ السلام کے مشن کے متعلق شائع ہوئی ہے ہم پر ہر طرف سے سوالات کا زور ہے، جن کا جواب دیا جانا نہایت ضروری ہے۔اکثر تحقیق حق کے لئے سوالات کرتے ہیں جن سے امید ہے کہ جواب ملنے پر داخل سلسلہ حقہ ہو جا ئینگے۔ملا ئیں لوگ ہم کو جگہ سے بے دخل کرنے کی سخت کوشش کر رہے ہیں۔اور اگر ہمارے پاس جلدی ہی کوئی ایسا مبلغ جو انگریزی و عربی دان ہو نہ بھیجا جائے گا تو ہمیں ڈر ہے۔جلد ہی ہماری مددفرماویں۔موجودہ وقت ہم پر نہایت سخت گذر رہا ہے۔وہ ہماری نسبت طاقتور ہیں۔اور ہمارے خلاف ایسی باتیں پیش کرتے رہتے ہیں۔جن سے لوگوں کو اشتعال پیدا ہوتا ہے۔(۲) مولوی محمد ابراہیم صاحب جو مالا بار (ہندوستان ) میں ماہی کے رہنے والے تھے ، تلاشِ حق کرتے ہوئے قادیان آئے اور احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ کچھ عرصہ قادیان میں رہے۔پھر ۱۹۱۷ء میں آپ کو مبلغ بنا کر سیلون بھجوا دیا گیا۔آپ کی آمد کے بعد تبلیغ کا کام از سر نو شروع کیا گیا اور سیلون سے ایک طالب علم مکرم ابوالحسن صاحب نے قادیان آکر کچھ عرصہ دینی تعلیم حاصل کی اور پھر سیلیون جا کر تبلیغ کے کام میں مکرم مولوی ابراہیم صاحب کا ہاتھ بٹانے لگے۔۱۹۲۰ء میں کولمبو میں ایک عمارت حاصل کی گئی جو مشن ہاؤس اور مسجد کا کام دینے لگی۔۱۹۲۰ میں احمدیت کی مخالفت نے نئے سرے سے زور پکڑا اور احمد یوں پر جھوٹے مقدمات بھی بنائے گئے۔۱۹۲۱ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت سردار عبد الرحمن صاحب کو دورہ پر سیلون بھجوایا۔آپ نے کولمبو اور کینڈی کے مقامات کے دورے کئے اور متعددلیکچر دیئے۔آپ نے عیسائی پادریوں کو اور مسلمان علماء کو وفات مسیح پر مباحثے کے لئے تحریری چیلنج دیئے لیکن انہیں کسی نے قبول نہیں کیا۔آپ کے دورہ کی خبر میں سیلون کے اخبارات میں شائع ہوتی رہیں۔