سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 474 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 474

474 ہوگا وہ ساری قوموں کی تعریف کا مستحق ہوگا۔رحمن کے معنی قرآنِ کریم سے یہ معلوم ہوتے ہیں کہ جس نے کوئی نیک کام اور کوئی خدمت نہ کی ہو اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے والا اور جس کے پاس کچھ نہ ہوا سے وہ ذرائع مہیا کر دینے والا ہو جن ذرائع کی وجہ سے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کر سکے۔اور رحیم کہ معنی یہ ہیں کہ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کام کا بدلہ متواتر جاری رہے۔اگر دنیوی حکومتیں ان اصولوں کو قبول کر لیں تو وہ بھی الحمد کی مستحق ہو جائیں گی اور ان میں لڑائی جھگڑے اور فساد بند ہو جائیں گے۔اگر دنیا اس اصول پر عمل کرے تو سارے جھگڑے کمپیٹلزم اور کمیونزم کے ختم ہو جاتے ہیں۔ملک یوم الدین والے حصے کے متعلق حضور نے فرمایا کہ دنیا میں حکومت کی بڑی غرض یہی سمجھی جاتی ہے کہ ہنگامی حالات emergencies میں کام آئے۔عام حالات میں افراد خود اپنا انتظام کر لیتے ہیں۔حکومت کا کام یہی ہوتا ہے کہ جب ایک جتھہ اور گروہ یا ایک قوم کوئی شرارت کرے تو اس وقت اس کو سنبھال لے لیکن عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ حکومت ایسے کام سے عہد ا بر آنہیں ہوتی۔اصل مطلب یہ ہے کہ قومی یا مجموعی خرابی یا مجموعی طور پر اچھے کام کے اجزاء اور فیصلہ کے وقت بعض دفعہ گورنمنٹ ڈر جاتی ہے۔کہ پبلک ہم سے کل پوچھے گی۔یا بعض دفعہ وہ جزا دینے میں کوتاہی کر جاتی ہے کیونکہ جزا اس کی طاقت سے بڑھ جاتی ہے۔تو ملک یوم الدین میں بتایا کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے جس سے حمد حاصل ہوتی ہے اگر کوئی حکومت ملک یوم الدین بن کر رہے تو پھر عوام الناس اور اردگرد کے لوگوں میں بغض کبھی پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ تعریف ہی ہوتی ہے۔ان چار خطبات میں حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے گر بیان فرمائے ہیں۔اور وہ تعلیم اور حکومت کے وہ اصول بیان فرمائے ہیں جن پر عمل کر کے اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام کے جھگڑے کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔(۲۹ تا۳۲) یورپ کے دیگر مقامات کا سفر: ۱۰ جولائی کو حضرت خلیفہ مسیح الثانی' زیورک سے روانہ ہوئے اور رات کولو گانو کے پارک ہوٹل میں ٹہرے۔اور اگلے روز لوگانو سے اٹلی کے شہر وینس پہنچے۔۱۲ جولائی کو حضور نے گنڈ ولا قسم کی کشتی میں وینس کی سیر کی۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان