سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 473 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 473

473 میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔۔کمیونسٹ دنیا میں تو مذہب کو ایک شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا تھا مگر اس کے ساتھ مغربی دنیا کے کیپیٹلسٹ بلاک میں بھی اکثریت رفتہ رفتہ دہریت کی طرف جھک رہی تھی۔اور مذہبی خیالات پر دقیانوسیت اور تنگ نظری کا لیبل لگا کر ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔اور یہ سوال اُٹھایا جاتا تھا کہ آخر معاشرے کو مذہب کی ضرورت ہی کیا ہے۔بغیر کسی آسمانی راہنمائی کے ہمارے نظام میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پوری دنیا کو ترقی، امن اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر سکے۔چند سال قبل حضور ڈلہوزی گئے تو وہاں ایک روز حضور دو پہر کے وقت آپ کو الہام ہوا کہ دنیا میں امن کے قیام اور کمیونزم کے مقابلہ کے لئے سارے گر سورہ فاتحہ میں موجود ہیں۔پھر آپ کو عرفانی طور پر اس کی تفسیر سمجھائی گئی۔پہلے حضور کا ارادہ تھا کہ اس کے متعلق تفصیلی رسالہ تحریر فرمائیں گے۔مگر بیماری کے آغاز کے بعد حضور نے مناسب خیال فرمایا کہ خطبات کے ایک سلسلے میں یہ تفسیر بیان فرما ئیں۔چنانچہ اس دورے کے دوران مئی اور جون میں حضور نے چار خطبات میں یہ تفسیر مختصراً بیان فرمائی۔حضور نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ دنیا میں امن اور کمیونزم اور کیپیٹلزم کے جھگڑے کے استیصال کے گر سورہ فاتحہ میں موجود ہیں۔حضور نے فرمایا کہ الحمد للہ رب العلمین میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر قسم کی مدح کا وہی مستحق ہوتا ہے جس کی ربوبیت کسی خاص قوم اور فرقہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ وسیع ہوتی ہے۔امریکہ اپنے آپ کو ڈیما کرسی کا لیڈر سمجھتا ہے اور روس اپنے آپ کو عوامی تحریکوں کا لیڈر سمجھتا ہے۔لیکن اگر دونوں کو دیکھا جائے تو امریکنوں کی ساری طاقت امریکنوں کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے اور روس کی ساری طاقت روسیوں کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے۔روس اگر کرتا ہے تو یہ کہ اپنے خیالات دوسرے لوگوں میں پھیلا دیتا ہے تا وہ لوگ اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔اسی طرح اگر امریکن دوسرے لوگوں کو امداد دیتے ہیں تو اس میں بھی اپنے فوائد مد نظر ہوتے ہیں۔دونوں گروہ دوسرے ممالک کو مدد دیتے ہوئے اپنے فوائد کو مد نظر رکھتے ہیں نہ کہ عوام الناس کے فوائد کو حقیقی مدح اسی وقت ہوتی ہے جب بغیر غرض کے لوگوں کو اونچا کیا جائے حقیقی تعریف کی مستحق وہی حکومت ہوگی جو اس آیت کے ماتحت کام چلائے گی۔اور وہی ٹھیک امن قائم کر سکے گی۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اگلی آیت الرحمن الرحیم کی تفسیر میں فرمایا کہ جو رحمن اور رحیم