سلسلہ احمدیہ — Page 37
انڈونیشیا: 37 سے اس وقت یہ علاقہ ہالینڈ کے زیر تسلط تھا۔اور جاوا اور سماٹرا میں جماعت کے مشن کامیابی۔کام کر رہے تھے۔ان کے آغاز اور ابتدائی حالات کی کچھ تفاصیل کتاب کے حصہ اول میں آ چکی ہیں۔دونوں مقامات پر ہونے والی جدوجہد کا ایک خاکہ پیش ہے سماٹرا میں اس وقت مولوی محمد صادق صاحب بطور مبلغ کام کر رہے تھے اور ان کے ساتھ یہاں کے فدائی احمدی مکرم ابو بکر ایوب صاحب تبلیغ احمدیت کے لئے کوشاں تھے۔یہاں پر جماعت کا مرکز یہاں کے ایک شہر میدان میں تھا۔جماعت کی طرف سے البشریٰ اور سینار اسلام کے جریدے بھی قدرے بے قاعدگی سے شائع ہو رہے تھے۔انفرادی ملاقاتوں تبلیغی لیکچروں اور ملایا اور ڈچ زبان میں لٹریچر کے ذریعہ تبلیغ ہو رہی تھی۔۱۹۳۵ء تک تو عیسائیوں اور غیر احمدیوں سے بڑے بڑے مناظرے ہوئے ، جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی مگر جب مخالفین کو خفت اٹھانی پڑی تو انہوں نے مناظروں اور مباحثوں سے کترانا شروع کر دیا۔مگر مخالفانہ روش میں پہلے سے بھی بڑھ گئے۔تعصب اتنا بڑھ گیا کہ اگر کوئی شخص احمد یہ مشن کا راستہ بھی پوچھتا تو اسے یہی کہا جاتا کہ اب یہاں پر کوئی احمدی نہیں رہتا۔ہالینڈ کی حکومت کے ماتحت بہت سے علاقائی سلاطین اپنے اپنے علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے تھے اور مذہبی معاملات ان کی وساطت سے ہی طے ہوتے تھے اور حکومت ان میں کم ہی مداخلت کرتی تھی۔ان سلاطین نے اپنے اپنے قاضی اور علماء مقرر کئے ہوئے ا تھے۔ان علماء اور سلاطین کی طرف سے احمدیت کی سخت مخالفت ہو رہی تھی۔یہ جماعت کی تبلیغ کو روکنے کی کوشش کرتے۔مقرر شدہ قاضی کی توثیق کے بغیر کوئی نکاح رجسٹر نہیں ہو سکتا تھا۔ان قاضیوں نے احمدیوں کے نکاح کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔حکومت نے بھی شروع میں مدد نہ کی۔مگر پھر احمد یوں کی ہمت اور ثبات قدم سے احمدیوں کو اپنے علیحدہ نکاح پڑھنے کی اجازت مل گئی۔علماء کی طرف سے قبرستانوں میں احمدیوں کی تدفین پر بھی پابندی لگا دی گئی اور انہیں یہ کہہ کر مرتد کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگر تم مر گئے تو کسی قبرستان میں قبر کی جگہ بھی نہ مل سکے گی۔احمدیوں نے اپنا علیحدہ قبرستان لے لیا اور اس طرح یہ شور و غوغا بھی تھم گیا۔