سلسلہ احمدیہ — Page 36
36 ہم تمہیں خوارج قرار دے کر قتل کر دیں گے۔یہ غریب جماعت اتنی رقم کا انتظام کہاں سے کرتی۔جس وقت عشاء کی نماز ہو رہی تھی دس مسلح آدمیوں نے مسجد کا محاصرہ کر لیا اور دس آدمیوں کو قتل کرنے کے لئے لے گئے۔پھر پاس کے گاؤں کے بااثر آدمیوں کی مداخلت پر انہیں چھوڑا اور یہ حملہ آور پچاس پونڈ کی رقم لے کر فرار ہو گئے۔ابھی چند ہی روز گذرے تھے کے شر پسندوں کا یہ گروہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آ گیا۔ان کے بہت سے ساتھی قتل ہوئے اور پھر ان کا سرغنہ بھی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔پھر دہشتگردوں کا یہ گروہ ختم ہو گیا۔علاقہ میں مشہور ہو گیا کہ ان کو احمد یوں پر ظلم کرنے کی سزا ملی ہے۔جنوری ۱۹۳۹ء میں حضرت منیر الحصنی صاحب کا روبار کے سلسلے میں دمشق منتقل ہوئے۔ان کی کاوشوں سے دمشق کی جماعت منظم ہونا شروع ہوئی۔ایک مکان کرایہ پر لے کر اجتماعات کا سلسلہ شروع کیا گیا تبلیغ کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا کہ مخالفت زور پکڑ گئی۔مشائخ دمشق نے منیر الحصنی صاحب کے قتل کا ارادہ کیا۔اور کہلا بھیجا کہ جس گھر میں احمدی جمع ہوتے ہیں اس کو آگ لگا دی جائے گی۔چناچہ مجبوراً یہ سلسلہ روکنا پڑا۔لیکن انفرادی تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔فروری ۱۹۴۰ء میں ایک بڑے عالم نے احمدیوں کے ساتھ مباہلہ کا ارادہ کیا۔مگر اس نے کچھ منذ ر خوا ہیں دیکھیں تو مباہلے سے انکار کر دیا۔اس امر کا زیر تبلیغ احباب پر بہت اچھا اثر ہوا۔حضور کے ارشاد کے تحت مولوی محمد دین صاحب پہلے اسکندریہ اور پھر قاہرہ میں مقیم رہ کر جماعت کی تربیت اور تبلیغ کے لئے سعی کر رہے تھے۔اور مصر کی جماعت میں بیداری پیدا ہو رہی تھی۔یہ دور بغداد کی جماعت کے لئے بھی آزمائش کا دور تھا۔حکومت عراق نے ارادہ کیا تھا کہ احمدیوں کو عراق سے نکال دے اور اس کے لئے تحقیقات بھی شروع کی گئیں مگر پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ عمل رک گیا۔مگر حکومت کا معاندانہ رویہ جاری رہا۔اس کے با وجود وہاں کے احمدی تبلیغی کوششیں کرتے رہے۔(۲۱) (۱) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء۔۱۹۳۹ء ص ۶۹-۷۴ (۲) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۹ء۔۱۹۴۰، ص ۹۹ - ۱۰۷