سلسلہ احمدیہ — Page 455
455 اور اسی سال جنوری میں ایک طالب علم نے مفلر سے ایک اور طالب علم کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی تھی مگر بر وقت امداد سے اُس لڑکے کی جان بچ گئی۔مندرجہ بالا حقائق سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ عبد الحمید ایک کم عمر نوجوان تھا اور اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔مگر اس کے جماعت احمدیہ کے نمایاں مخالفین سے قریبی تعلقات تھے اور ان کے پاس آنا جانا تھا۔اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اس کے اردگرد جماعت کے مخالف اور تشدد پسند مولویوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا۔اور اس کے ذہن کو انتہائی اقدامات کے لئے تیار کیا گیا تھا تا کہ اس آلہ کار کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔حتی کہ مجرم کو اس طرح کی خواہیں بھی آنی شروع ہو گئی تھیں۔یہ سب حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک منظم سازش کے تحت اس لڑکے کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی پر قاتلانہ حملہ کے لئے تیار کیا گیا تھا۔اور اب جب کہ اس واقعہ کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے ، شدت پسند مولوی حضرات اس قسم کے طریقہ کار کو بہت بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں اور اسی انداز میں کم علم اور کچے ذہن کے نوجوانوں کے ذہنوں کو تیار کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے قاتلانہ حملے کرنا عین نیکی ہے اور پھر ان سے مختلف وارداتیں کرائی جاتی ہیں۔اس بہیمانہ اور خلاف اسلام طریق سے پورے ملک کا امن برباد ہو چکا ہے۔جب حضرت مصلح موعود پر اس طرز کا قاتلانہ حملہ کرایا گیا تھا تو اسے اس بنیاد پر نظر انداز کر دیا گیا تھا کہ یہ تو احمدیوں کے خلاف ہے اس پر کیا توجہ دینی۔احمدیوں کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ کر رہا ہے لیکن اس خوفناک غلطی کا خمیازہ پاکستان اب تک بھگت رہا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرے نہ معلوم کب تک اہل پاکستان کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔لیکن اس قسم کی سازشوں کا تدارک کرنے کی بجائے سیشن عدالت کے فیصلے میں شدت پسندی کی حوصلہ شکنی کی بجائے جماعت احمدیہ کے عقائد پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔بہر حال جماعت کی درخواست پر جولائی ۱۹۵۵ء میں ہائی کورٹ نے ، جماعت احمدیہ کے خلاف ریمارکس عدالتی فیصلے سے حذف قرار دے دیئے۔(۲۶) (1) الموعود، تقریر حضرت مصلح موعودؓ ، جلسہ سالانه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۴ء ص ۱۷۸ تا ۱۸۲ (۲) الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۵۴ء ص ۳