سلسلہ احمدیہ — Page 442
442 جا کر حضور کا معائنہ کریں۔مگر یونیورسٹی امتحانات کی وجہ سے انہوں نے معذرت کی۔پھر امیر الدین صاحب کے کہنے پر سرجن ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب ربوہ جا کر حضور کا معائنہ کرنے پر تیار ہوئے۔رات کو لاہور سے بھی ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب اور دوسرے ڈاکٹر صاحبان جن میں احمدی ڈاکٹر صاحبان بھی شامل تھے ربوہ پہنچ گئے۔جب زخم کا معائنہ کیا گیا تو ڈاکٹروں نے رائے قائم کی کہ اندر خون بہہ رہا ہے اور کوئی رگ پھٹی ہوئی ہے۔اس لئے دوبارہ آپریشن کرنا پڑے گا۔حضور نے فرمایا کہ رات کے ایک بجنے والے ہیں اور مجھے اتنی کوفت ہو چکی ہے، اس لئے اگر صبح تک انتظار کر لیا جائے تو کیا حرج ہے۔جب ڈاکٹروں نے اس بارے میں مشورہ کیا تو ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب نے تشویش کا اظہار کیا کہ انتظار خطرناک ہو سکتا ہے اس لئے ابھی آپریشن کرنا پڑے گا۔انیستھیزیا کے ڈاکٹر صاحب کلوروفورم دینے کے لئے موجود تھے لیکن حضور نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بیہوش نہ کیا جائے۔خدا تعالیٰ توفیق دے میں اسے برداشت کرلوں گا۔چنانچہ Local Anaesthesia دیا گیا اور ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب نے آپریشن شروع کیا۔اُس وقت بجلی بھی نہیں تھی روشنی کے لئے مٹی کے تیل سے جلنے والے گیس لیمپ جلائے جاتے تھے۔اس لئے رات کے وقت آپریشن کے لئے ناکافی روشنی میں سرجنوں نے اپنا کام کیا۔آپریشن تقریباً سوا گھنٹا جاری رہا۔اور معلوم ہوا کہ زخم ابتدائی اندازے سے زیادہ گہرا تھا اور ایک بڑا عصبہ (Nerve)، دوخون کی درمیانی سائز کی رگیں اور سوا دو انچ لمبا عضلہ (Muscle) کا حصہ کٹ گیا ہے۔اور ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کا کہنا تھا کہ چاقو کی نوک بالکل دماغ کی بڑی وین (Jugular vein) کے بالکل قریب پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد کئی دن حضور کو بخار، زخم میں در داور نقرس کی تکلیف رہی۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے کمال حو صلے سے اس تکلیف کو برداشت کیا۔دور دور سے احمدی بے قرار ہوکر ربوہ پہنچ رہے تھے تا کہ آپ کی خیریت معلوم کریں۔حضور نے ان احباب کو ملاقات سے روکا نہیں۔وہ کمرے میں آتے اور حضور کی زیارت کر کے رخصت ہو جاتے۔(۷) اس تکلیف کے باوجود حضور ضروری جماعتی کام سرانجام دیتے رہے۔اس قاتلانہ حملے کے کئی پہلو قابل توجہ تھے۔حملہ آور ایک کم عمر نوجوان تھا اور سکول میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔اس کی عمر سولہ سترہ برس ظاہر کی گئی تھی۔اور یہ حملہ چاقو سے کیا گیا تھا ، پستول