سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 441 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 441

441 آپ پر کسی نے حملہ کیا ہے بلکہ یہ احساس ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی بڑی سل آپ کی گردن پر گری ہے۔اور آپ کو اس وقت پوری طرح نظر نہیں آرہا تھا۔قریب کھڑے لوگوں کے چہرے بھی دھندلے نظر آ رہے تھے۔حضور کو مسجد سے باہر لے جایا گیا۔جب حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نظر آئے تو حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا ہے؟ اس پر عرض کی گئی کہ آپ پر کسی شخص نے حملہ کیا ہے۔اس پر حضور کو خون کے نکلنے کا احساس ہوا۔اس حالت میں بھی حضور نے تاکید فرمائی کہ حملہ آور کو مارا نہ جائے۔آپ کی زبان پر تسبیح و تحمید کے کلمات تھے۔حملہ آور کو بڑی مشکل سے قابو کر کے پولیس کو اطلاع دی گئی۔حملہ کی اطلاع ہونے پر مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے آکر زخم کو صاف کر کے ٹانکے لگائے۔(۲ تا ۵) یہ خبر ایک بجلی بن کر ہر احمدی کے دل پر گری۔جس احمدی کو اس حملے کی خبر ملی وہ بیتاب ہو کر دعاؤں میں لگ گیا۔ربوہ میں لوگ بڑی تعداد میں قصرِ خلافت میں جمع ہونے لگے۔حضور نے مرہم پٹی کے بعد جماعت احمدیہ کے نام یہ پیغام اپنے دست مبارک سے لکھا۔اس پیغام کو بذریعہ تار پوری دنیا کی جماعتوں میں بھجوایا گیا۔ย برادران! آپ نے مجھ پر ایک نادان دشمن کے حملہ کرنے کے بارے میں سن لیا ہے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو آنکھیں کھولنے اور انہیں اسلام اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے۔میرے بھائیو! دعا کرواگر میرا وقت آپہنچا ہے۔تو اللہ تعالیٰ میری روح کو اطمینان بخشے اور اپنے فضل نازل فرمائے۔اور یہ بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے آپ کو ایسا راہنما دے جو اس کام کے لئے مجھ سے زیادہ اہل ہو۔میں ہمیشہ آپ لوگوں سے اپنی بیویوں اور بچوں سے بھی زیادہ محبت کرتا رہا ہوں۔اور اسلام واحمدیت کے لئے ہر پیاری سے پیاری چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہا ہوں۔میں آپ سے اور آپ کی آئندہ آنے والی نسلوں سے یہ بھی توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔خدا آپ کے ساتھ ہو۔(۶) صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے مشہور سرجن ڈاکٹر امیر الدین صاحب سے کہا کہ وہ ربوہ