سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 412 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 412

412 ر ہے وہ فسادات جو مارچ ۵۳ میں ہوئے تھے تو یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف تھے۔ان کو قادیانیوں کے خلاف ہنگاموں ( Anti Qadiani Disturbances) کا نام بالکل غلط دیا گیا ہے، جس سے نا واقف حال لوگوں کو خواہ مخواہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہاں کے عام مسلمان شاید قادیانیوں کو قتل و غارت کرنے پر تل گئے ہوں گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ فسادات حکومت اور اور عوام کے درمیان اس کشمکش کی وجہ سے برپا ہوئے تھے کہ ایک طرف عوام قادیانیوں کے بارے میں مذکورہ بالا مطالبہ تسلیم کرانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے تھے اور دوسری طرف حکومت ان کے اس ایجی ٹیشن کو طاقت سے دبا دینا چاہتی تھی۔پس تصادم در اصل حکومت اور عوام کے درمیان ہوا تھا نہ کہ قادیانیوں اور عوام کے درمیان۔قادیانیوں کی جان و مال پر عوام نے صرف اس وقت حملہ کیا جب انہیں یقین ہو گیا ( اور اس پر یقین کے لئے اچھے خاصے وزنی وجوہ تھے ) کہ فسادات کے دوران میں پولیس اور فوج کی وردیاں پہن کر بعض قادیانی مسلمانوں کو قتل کرتے پھر رہے ہیں۔(ملاحظہ ہو تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ (۱۰۰) (۱۵۶ اب تو حقائق پیش کئے جاچکے ہیں ان کی روشنی میں مودودی صاحب کی اس غلط بیانی کی لمبی چوڑی تردید کی ضرورت نہیں۔لیکن مندرجہ ذیل امور قابل توجہ ہیں (۱) جس دن شورش پھیلانے والوں نے یہ افواہ پھیلائی کہ احمدی فوجیوں اور پولیس کی وردی پہن کر گولیاں چلا رہے ہیں، وہ ۴ مارچ ۱۹۵۳ء کا دن تھا۔تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے پہلے ڈیڑھ سو صفحے اس بات پر گواہ ہیں کہ اس سے بہت پہلے احمدیوں کو شہید کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ان کے گھروں پر اور ان کی دوکانوں پر حملے کئے جا رہے تھے۔ان پر ارتداد کے لئے ہر قسم کا نا جائز دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔اب مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ اس سے قبل یہ فسادصرف حکومت اور ان جیسی جماعتوں (جن کو وہ عوام کا نام دے رہے ہیں ) تھا بالکل غلط ہے۔۲) تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے عدالت میں اس بات کو ثابت کر دیا گیا تھا کہ احمدیوں نے یہ وردیاں پہن کر لوگوں پر فائرنگ کر