سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 411 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 411

411 پھیلائی کہ ضلع پولیس اور سرکاری دفاتر کے ملازمین بلوائیوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔مسجد وزیر خان کے قریب پولیس نے جلوس کو روکا تو دو پولیس افسران کو اغوا کر لیا گیا۔جب ڈی ایس پی ان کو لینے کے لئے گیا تو اُس کو چھرے مار کر ہلاک کر دیا اور ان کی لاش پر ۵۲ زخموں کے نشانات تھے۔مولوی عبدالستار نیازی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا مگر وہ مسجد وزیر خان میں چھپے ہوئے تھے اور اب وہاں پر پولیس جانے کی جراءت نہیں کر سکتی تھی۔شہر میں کرفیو لگایا گیا اور پولیس نے بلوائیوں پر فائز کیا جس سے کچھ جانی نقصان ہوا۔پورا شہر ایک ہنگامہ زار بنا ہوا تھا۔رات گئے تک مہیب اور ہولناک شور کی آواز آتی تھی۔اس روز بلوائیوں کے دستے تیزی سے شہر میں داخل ہورہے تھے تاکہ تشدد کی اس مہم کو اور تیز کر سکیں۔لاہور میں ایک ہفتے کے لئے کرفیوں گا دیا گیا۔صوبے بھر میں جگہ جگہ احمدیوں پر حملے ہورہے تھے۔سیالکوٹ میں شورش کے چھ لیڈروں کو گرفتار کیا گیا تو بلوائیوں نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کی اور پولیس پر حملہ کر دیا۔جواب میں فائرنگ ہوئی اور جلوس کے چار شرکاء ہلاک ہو گئے۔یہاں پر بھی حالات خراب کرنے کے لئے تحریک ختم نبوت والوں نے لاہور والے ہتھکنڈوں سے کام لیا۔مولویوں نے تقریریں کیں کہ پولیس نے قرآنِ کریم کی توہین کی ہے اور یہ جھوٹ بھی بولا کہ ایک مسجد پر پولیس نے ساڑھے تین گھنٹے فائرنگ کی ہے ، نہ معلوم کتنے مسلمان مارے گئے ہیں۔اس اشتعال انگیزی کی وجہ سے سیالکوٹ میں دو احمد یوں کو شہید کر دیا گیا۔سیالکوٹ میں بھی فوج کو امن قائم کرنے کے لئے بلا لیا گیا۔لائل پور میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔اب صورتِ حال یہ ہوگئی تھی کہ جو لیڈر اس وقت خاموش رہنا چاہتا تھا ، اس پر بھی دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ اس فتنے کے حق میں بیان بازی کرے۔چنانچہ مشہور سیاسی لیڈر حسین شہید سہر وردی اُس وقت ٹرین پر جا رہے تھے تو ان کے ڈبے کو گھیر کر مظاہرہ کیا گیا کہ ان کی خاموشی کی وجہ کیا ہے۔اس پر انہوں نے بلوائیوں کی رضا جوئی کے لئے بیان دیا کہ ختم نبوت کے مقدس عقیدے پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ہو سکتا اور ان کی پارٹی کی میٹنگ میں اس تحریک کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔(۹۹،۹۸) یہاں پر ضمناً یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ جب یہ تحریک ناکام ہوگئی تو اس شورش کو بر پا کرنے والوں نے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔مثلاً مودودی صاحب سے جب اس شورش کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا