سلسلہ احمدیہ — Page 30
30 50 علاقے کو Protectorate کا درجہ حاصل تھا۔سیرالیون میں احمدیت کی ابتداء ۱۹۱۵ء میں ہوئی جب فری ٹاؤن کے ایک باشندے مکرم موسیٰ کے۔گا با صاحب ( Musa K۔Gerber) نے جماعت کے شائع کردہ، پہلے پارے کا ترجمہ قرآن پڑھ کر بیعت کی۔ان کے بعد کچھ اور احباب نے کی۔ان بھی بیعت کی سعادت حاصل کی اور بذریعہ خط و کتابت جماعت سے رابطہ رکھنا شروع کیا۔جب ۱۹۲۱ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کو گولڈ کوسٹ ( غانا ) اور نائیجیریا کے لئے بھجوایا گیا تو راستے میں ان کا بحری جہاز کچھ روز کے لئے سیرالیون رکا۔آپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں پر احمدیت کی تبلیغ کی اور کچھ لوگ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔۱۹۲۹ء میں جب فضل الرحمن صاحب حکیم نائجیریا سے واپس قادیان جا رہے تھے تو آپ نے تین ماہ کے لئے سیرالیون میں قیام کر کے تبلیغ و تربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔اسی دور میں پیغامیوں نے سیرالیون کے کچھ لوگوں سے رابطہ کر کے اپنا لٹریچر بھیجوانا شروع کیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد احمدیت سے بدظن ہو گئی۔۱۹۳۷ء میں حضور نے گولڈ کوسٹ (غانا) کے مشن کو ارشاد فرمایا کہ مغربی افریقہ کے دیگر علاقوں میں بھی مشن کھولے جائیں اور سالٹ پانڈ سے ان کی نگرانی کی جائے۔چنانچہ اس سال کے وسط میں مولانا نذیر احمد صاحب علی سیرالیون پہنچے۔اس وقت تک پرانے احمدیوں میں سے کچھ فوت ہو چکے تھے، کچھ پیچھے ہٹ چکے تھے اور کچھ نقل مکانی کر کے نائیجیریا جاچکے تھے۔صرف دو پرانے احمدیوں سے رابطہ ہو سکا۔احمدی مبلغ کی آمد کا سن کر غیر احمدیوں نے اپنے خرچ پر ہندوستان سے پیغامیوں کے مبلغ کو بلوایا۔اور ان کے ذریعہ مخالفت کا طوفان اٹھایا گیا مگر معاندین کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔کچھ عرصہ کے بعد پیغامی مبلغ بد دل ہو کر واپس چلے گئے۔مولانا نذیر احمد صاحب علی کی کاوشوں سے پہلے فری ٹاؤن میں جماعت بنی اور پھر انہوں نے دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ان دوروں کے نتیجے میں چھ مقامات پر لوگ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے۔سب سے زیادہ تعداد میں روکو پور کے رہنے والوں نے احمدیت کے پیغام کو قبول کیا۔یہاں کے چیف اور امام دونوں بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے اور سکول کے لئے عمارت بھی بنائی گئی۔اس طرح ان حالات میں یہاں پر رفتہ رفتہ احمدیت کا نفوذ شروع ہوا۔اس وقت کوئی دیکھنے والا یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ جلد۔