سلسلہ احمدیہ — Page 397
397 تاویل کریں۔مسٹر حمید نظامی نے کہا کہ اگر وہ اپنے اخبار میں صحیح خیالات کی ترجمانی شروع کر دیں تو سب سے پہلے حکومت کے منظور نظر اور مسلم لیگی اخبارات ہی مجھے احمدی قرار دے دیں گے تا کہ اپنی اشاعت میں اضافہ کر لیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ احرار کے انسداد کے لئے کوئی قدم اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اخبارات اِس کام میں تعاون نہ کریں۔اور اپنے کالموں کے ذریعہ زہر پھیلانا بند نہ کریں۔مسٹر مظہر علی خان نے صاف کہا کہ اس تمام مصیبت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے خود مذہب کو اپنے نعروں کا موضوع اور اپنی قوت کا سرچشمہ بنا رکھا ہے اور اگر ایک گروہ اپنے مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کر سکتا ہے تو دوسرے کو کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی خاطر مذہب کو آلہ کار نہ بنائیں۔(۶۶) لیکن اصل مقصد صرف صحافیوں کو دہشت زدہ کرنا نہیں تھا۔ان کی اصل منزل تو اقتدار کے اعلیٰ ایوان تھے۔سکیم یہ تھی کہ برسر اقتدار طبقے کو یہ باور کرا دو کہ اگر تم نے ہماری ہاں میں ہاں نہ ملائی تو تمہارا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا۔ہم تمہیں قادیانی اور قادیانی نواز قرار دے کر تمہیں کہیں کا نہ چھوڑیں گے۔تب سے اب تک بلیک میلنگ کا یہ آلہ مولویوں کے ہاتھ میں موجود رہا ہے۔اور جتنا ہی کوئی اس سے خوف زدہ ہو یہ آلہ اتنی ہی فراوانی سے استعمال کیا جاتا ہے۔اب اس بلیک میلنگ سے مرعوب ہوکر اور اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لئے پنجاب میں برسر اقتدار مسلم لیگ کے کئی اراکین اور کئی شاخیں جماعت احمدیہ کے خلاف قراردادیں پاس کر رہے تھے۔مطالبے کر رہے تھے کہ ان کو اقلیت قرار دو ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو برطرف کرو، احمد یوں کو کلیدی اسامیوں سے ہٹاؤ۔مختصر یہ کہ احمدیوں کے سب حقوق سلب کردو۔(۶۷) دشمن تشدد، جھوٹ اور بلیک میلنگ کے ہتھیار بے دریغ استعمال کر رہا تھا۔اور اس نازک موڑ پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے احمدیوں کو ان کے ہتھیاروں کی طرف متوجہ فرمایا۔آپ نے ۴ جولائی ۱۹۵۲ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا ابتلاءصبر وصلوۃ کے ساتھ دور ہو سکتے ہیں۔اور خوفِ خدا رکھنے والوں پر یہ بات مشکل نہیں۔امن کی گھڑیوں میں انسان کبر و نخوت کا شکار ہو جاتا ہے۔مگر مصائب و آلام اسے آستانہ رب العزت پر جھکانے کے لئے مد ہوتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو بھی