سلسلہ احمدیہ — Page 376
376 اور ایک گیارہ دکھائی دینا چاہئیے۔(۲۷) آہستہ آہستہ یہ واضح ہوتا جائے گا کہ احرار اپنے دشمنوں کے خلاف ویسی ترکیبیں لڑاتے تھے جیسا کہ اپنے ناقص مطالعہ کی وجہ سے وہ خیال کرتے تھے کہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ انقلاب لانے کے لئے استعمال کرنا ضروری ہیں۔اب احرار مطالبہ کر رہے تھے کہ قانونی طور پر جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔وہ غلط عقائد جماعت کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے جذبات کو انگیخت کر رہے تھے۔چونکہ پاکستان میں خود اُن پر غداری کا الزام لگایا گیا تھا ، اس لئے ان حقائق سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ پرو پیگنڈا کر رہے تھے کہ اصل میں پاکستان میں بسنے والے احمدی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں اور ملک سے غداری کر رہے ہیں۔اور در حقیقت پاکستان کی حقیقی تمنا کرنے والے تو احرار تھے۔چنانچہ جب احرار نے کینچلی بدلنی شروع کی تو اُن کے اخبار آزاد نے لکھا:۔تیسری قسم کے لوگ جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ پاکستان تو ضرور بنے لیکن کچھ عرصہ کے لئے پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ضرور قائم رہیں۔یہ وہ لوگ تھے جو مجلس احرار سے تعلق رکھتے تھے۔۔۔غور طلب امر یہ ہے کہ مرزائی جو پاکستان کے سرے ہی سے مخالف اور اس کی کامیابی میں روڑے اٹکانے والے تھے آج سب کچھ حاصل کرنے کے بعد ظاہرہ طور پر اپنے کو پاکستانی کہتے ہیں۔مگر احرار جن کی حقیقی تمنا پاکستان تھی جو اس میں اپنے عقیدہ حکومت الہیہ کی عملی تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ان کو یہ مرزائی اچھل اچھل کر غیر پاکستانی کہہ کر اپنے جرم کر چھپانا چاہتے ہیں۔(۲۸) ان کے علاوہ اب بعض اور اخبارات بھی جماعت کے خلاف زہر اگلنے میں پیش پیش تھے۔جن میں زمیندار بھی شامل تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان کی کاروائیوں کا بر وقت نوٹس لیتے ہوئے جنوری ۱۹۴۹ء کی ایک میٹنگ میں ارشاد فرمایا تھا کہ زمیندار میں شائع ہونے والے مضامین کی تردید کے لئے مکمل تحقیق کی جائے اور یہ تجویز بھی زیر غور آئی تھی کہ ایک علیحدہ روزنامہ کراچی سے نکالا جائے جس میں اپنے سیاسی نظریات پیش کئے جائیں۔(۲۹) اگر آدمی حقائق کا علم رکھتا ہوتو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر احرار پاکستان بنانے کے اتنے