سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 375 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 375

375 باہر نکال کر لا رہے تھے۔اس تحریک میں شروع ہی سے اُن کا طریق تھا کہ جو عیب خود اُن میں تھے انہیں جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنا شروع کر دیا تا کہ لوگوں کی مخالفت اور شکوک کا رخ جماعت احمدیہ کی طرف ہو جائے۔اور ان کا اصول تھا کہ جھوٹ بولو اور مسلسل بولتے جاؤ۔یہ گروہ اخلاقی قیود جیسی چیزوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا تھا۔احرار کو گوشہ گمنامی سے نکالنے والے ہاتھ کون تھے، اس کا ذکر تو بعد میں آئے گا مگر اب مسلم لیگ کا ایک گروہ بھی ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔اب تک مسلم لیگ کے اراکین پر پابندی تھی کہ وہ مسلم لیگ کے رکن ہوتے ہوئے مجلس احرار کے رکن نہیں بن سکتے۔مگر دسمبر ۱۹۴۹ء میں یہ پابندی اٹھالی گئی۔اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے خلاف احرار کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔(۲۵) آزادی سے قبل بھی احرار دو مرتبہ کوشش کر چکے تھے کہ مسلم لیگ میں شامل ہو کر اس پر قبضہ کریں چنانچہ یکم دسمبر ۱۹۴۱ء کو احراری لیڈر افضل حق صاحب نے قصور میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا، ہم نے لیگ میں دو دفعہ گھس کر کوشش کی تا کہ اس پر قبضہ جمائیں۔دونوں دفعہ قاعدے اور قانون نئے بنادئے گئے تا کہ ہم بیکار ہو جائیں۔(۲۶) اب قائد اعظم کی وفات کے بعد یہ رکاوٹ اُٹھا دی گئی تھی۔اور پنجاب مسلم لیگ کی ناعاقبت اندیشی نے احرار کے لئے راہ ہموار کرنی شروع کر دی تھی۔جماعت احمدیہ کے خلاف زہرا گلا جاتا ہے: کہنے کو تو احرار اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کر رہے تھے لیکن وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو سوشلزم کے زیادہ قریب محسوس کرتے تھے۔اور اپنے خام خیال میں وہ سوشلزم یا کمیونزم کا جو بھی سمجھ پائے تھے اُسی کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔یہ بات پیش نظر رہنی چاہئیے کہ اس وقت سرخ دنیا پر سٹالن کی شخصیت چھائی ہوئی تھی۔چنانچہ ۱۹۳۹ء کے تاریخی سال ان کے اجلاس میں یہ واضح اعلان کیا گیا تھا، سوشلسٹ ذہن کے اعتبار سے بین الاقوامی اور دل میں مساوات کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے احرار کے قریب ہے۔ان دو راہروانِ ترقی کو ایک اکیلا رہنے کی بجائے دشمنوں کو ایک