سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 372 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 372

372 دروازے پر گیا اُسی نے لاٹھی رسید کی بے ایمان سونے نہیں دیتا۔‘(۱۹) آزادی کے معاً بعد احرار کی حالت کیا تھی ، اس کے متعلق ۱۹۵۳ء کے فسادات پر تحقیق کے لیے قائم ہونے والی تحقیقاتی عدالت کا تبصرہ یہ تھا ۱۹۴۷ء کی تقسیم اور پاکستان کا قیام احرار کے لئے بہت بڑی مایوسی کا پیغام تھا۔کیونکہ اس سے ہر قسم کا اقتدار کانگرس یا مسلم لیگ کی طرف منتقل ہو گیا۔اور احرار کے لئے ہندوستان یا پاکستان میں سیاسی سرگرمی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔پاکستان کی نئی مسلم مملکت کے قیام سے انہیں شدید صدمہ ہوا۔ان کے نظام عقاید کی عمارت متزلزل ہوگئی۔وہ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے بالکل ختم ہو گئے۔کچھ مدت تک وہ اسی نا کامی اور مایوسی کی حالت میں رہے۔انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہ سوجھتا تھا۔(۲۰) اس کے برعکس سب جانتے تھے کہ جماعت احمدیہ نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا۔جب قادیان پر ہر طرف سے حملے ہورہے تھے تو احمدیوں نے بہادری سے نہ صرف اپنا دفاع کیا تھا بلکہ ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی مدد بھی کی تھی۔حتی کہ مخالفین بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔باوجود سخت مشکل حالات کے جماعت نے نہ صرف فوری طور پر پاکستان میں نظام جماعت کو قائم کیا بلکہ نئے مرکز کی تعمیر بھی شروع کر دی۔اور پوری دنیا میں تبلیغ اسلام کے کام کو بھی پہلے سے زیادہ وسعت دینے کا کام شروع کر دیا تھا۔جماعت کے اشد مخالفین یوں تو گلے پھاڑ پھاڑ کے جماعت پر یہ الزام لگاتے تھے کہ احمدی جہاد کے قائل نہیں۔مگر جب پاکستان کو عسکری خدمات کی ضرورت پڑی تو یہ گروہ اپنے ملک کی کوئی خدمت نہ کر سکا بلکہ مودودی صاحب نے تو کشمیر میں اُس وقت کی جانے والی جدو جہد کو نا جائز قرار دے دیا۔اور ان کے اس فتوے کو ہندوستانی ریڈیو اور شیخ عبد اللہ صاحب کی حکومت نے بہت اچھالا (۲۱)۔مگر پاکستانی احمدیوں نے فرقان بٹالین کے ذریعہ اپنے ملک کے دفاع میں بہت کامیابی کے ساتھ حصہ لیا۔مخالفین کے حسد کی اُس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ملک کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔اور دیکھتے دیکھتے حضرت چوہدری صاحب نے نہ صرف پاکستان کی نمایاں خدمت کی بلکہ اقوام متحدہ میں اسلامی ممالک کے حقوق کے لئے اس کامیابی سے آواز بلند کی کہ اپنے پرائے سب عش عش کر اٹھے۔اب جماعت