سلسلہ احمدیہ — Page 371
371 والے احراریوں کو بھی پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔اُن کے لئے یہ صورتِ حال کئی وجوہات کی بناء پر مایوس کن تھی۔کل تک جس ملک کو وہ پلیدستان کہہ رہے تھے ، آج وہ اُسی ملک میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔کل تک جن کی ہر بات کو خلاف اسلام قرار دیا جارہا تھا ، وہ آج قوم کے ہیرو اور حکمران بن چکے تھے۔جس شخصیت کو احرار کافر اعظم کہتے رہے تھے آج اُس شخصیت کو پوری قوم قائد اعظم کہہ رہی تھی۔یہ علماء کل تک جن لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے کہ وہ ہندوستان کو ہمیشہ غلام رکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے ہی قوم کو آزادی دلائی تھی۔اور اُس پر آشوب دور میں پاکستان میں احرارا یوں کو کیا سمجھا جارہا تھا اور پاکستان میں اُن کا کس طرح استقبال کیا گیا تھا، اس کا اندازہ ایک مشہور احراری لیڈر تاج الدین انصاری صاحب کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے "غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں تو ہمیں ماضی کی تلخیاں بھول گئیں۔کیا آپ ہماری اس وقت کی خوشیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں ذرا تصور تو کیجئے کہ کن امنگوں اور ولولوں سے ہم نے واہگہ ( ہندوستان کی سرحد پر پاکستان کا پہلا مقام ) کے اس پار قدم رکھا ہوگا۔مگر جونہی ہم نے آزادی کے دروازہ میں قدم رکھا چاروں طرف سے اپنوں نے بیگانہ وار چلانا شروع کیا غدار غدار۔جب اس طرح ہمارا استقبال ہوا تو ہم ٹھٹھک کر رہ گئے۔ہمارا دل بیٹھنے لگا۔ہم نے حسرت بھری نگاہوں اور دکھ بھرے دل سے مالک حقیقی کو پکارا۔خدایا ہماری قوم کو کیا ہو گیا ہے؟ (۱۸) جب سیاسی عزائم رکھنے والے کسی گروہ کو نہ صرف انتخابات میں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑے بلکہ چاروں طرف سے غدار غدار کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہوں تو اس گروہ کو یہ صورتِ حال موت سے بھی بد تر معلوم ہوتی ہے۔اس وقت احراریوں کے سب سے نمایاں لیڈر عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی کیا کیفیت تھی، اپریل ۱۹۴۸ء میں وہ خود اس کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔دلیکن میری تو کوئی سنتا ہی نہیں۔میرا تو شکاری کتے کا سا حال ہے جو شکار کو دیکھ کر بھونکتا ہے، وہ جو کچھ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اُسی کی آواز لگاتا ہے۔وہ دوڑتا ہے کودتا ہے، پھدکتا ہے پھڑکتا ہے کہ شکار سے لپٹ جاؤں، اور بھونکتا ہے کہ اپنے مالک سے اس کی خبر کر دوں۔اسی طرح میں دیکھ رہا تھا شکار کو ، اور تمہارے دروازے پر بھونکا۔جس