سلسلہ احمدیہ — Page 368
368 قیادت قطعی غیر اسلامی ہے۔اس کا عمل آج تک ملتِ اسلامیہ کے مفاد کے منافی رہا ہے۔مرکزی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں اسلامی قوانین کی مخالفت اس کا مستقل شعار ہے۔اس لئے مسلمان سیاسی ، مذہبی ،تمدنی راہنمائی کی توقع مسلم لیگ کی غیر اسلامی قیادت سے نہیں کر سکتے ، اور مسلم لیگ کے کسی فیصلے کو اسلامی ہند کا فیصلہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔(۸) احرار اور اُن جیسے دوسرے مولویوں کا یہ خاص طریقہ ہوتا ہے کہ وہ مخالف پر ذاتی حملے کرتے ہیں، دشنام طرازی سے بڑھ کر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔اُس کے ہر فعل پر خلاف اسلام ہونے کا فتویٰ جڑ دیتے ہیں۔چنانچہ ۱۹۳۹ء کی آل انڈیا احرار کا نفرنس کے خطبہ صدارت میں افضل حق صاحب نے کہا، لیگ کے ارباب اقتدار جو عیش کی آغوش میں پہلے ہیں۔اسلام جیسے بے خوف مذہب اور مسلمانوں جیسے مجاہد گروہ کے سردار نہیں ہو سکتے۔مردوں سے مرادیں مانگنا اتنا بے سود نہیں جتنا لیگ کی موجودہ جماعت سے کسی بہادرانہ اقدام کی توقع کرنا۔اسی تقریر میں انہوں نے مسلمانوں کو انتباہ کیا ، سوچ لو پاکستان کی تحریک بھی برطانوی جھانسہ نہ ہو۔(۹) اپریل ۱۹۴۶ء میں دہلی کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے کہا تحریک پاکستان کی قیادت کرنے والوں کے قول وفعل میں بنیادی تضاد ہے۔۔۔۔یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو لوگ اپنی اڑھائی من کی لاش اور چھ فٹ قد پر اسلامی قوانین نافذ نہیں کر سکتے ، جن کا اٹھنا بیٹھنا ، جن کا سونا جاگنا، جن کی وضع قطع ، رہن سہن ، بول چال، زبان لباس غرض کوئی چیز اسلام کے مطابق نہ ہو، وہ ایک قطعہ زمین پر اسلامی قوانین کیسے نافذ کریں گے۔(۱۰) عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے بہت مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ صدر مسلم لیگ قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کر کے پاکستان کے متعلق اپنے شکوک و شبہات دور کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اغلباً ان کی مشکوک شہرت کی وجہ سے قائد اعظم کبھی بھی ان سے ملاقات پر آمادہ نہیں ہوئے۔(۱۱) جوں جوں قائد اعظم کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا، ان کے خلاف احرار کا غیض وغضب بھی بڑھتا