سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 367 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 367

367 سیاسی منظر پر ہلچل مچی ہوئی تھی تو ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے کہا کہ د مسلم لیگیوں میں خودداری کا ذرا مادہ نہیں۔وہ برطانوی گورنمنٹ کے اشارے پر ناچتے ہیں اور ہندوستان کو ہمیشہ غلام رکھنا چاہتے ہیں۔یہ امر افسوسناک ہے کہ مسلم لیگی مہاتما گاندھی کے ممنون ہونے کی بجائے اپنے ذاتی اغراض کیلئے کانگرس سے جھگڑا کر رہے ہیں۔اسی جلسے میں اُنہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کانگرس میں شامل ہوں۔(۵) عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب صرف مسلم لیگ ہی سے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں سے بھی بہت نالاں تھے۔چنانچہ جون ۱۹۳۹ء میں انہوں نے سندھ کا دورہ کیا تا کہ وہاں پر مسلم لیگ کے مقابل پر احرار کی تنظیمیں قائم کریں۔اسی ضمن میں ایک پولیٹیکل کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا، ہندوستان کے مسلمانوں کو شرم آنی چاہئیے۔کہ ان کے ہندو بھائی تو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اور اسلام کے نام لیوا جن کا مسلک ہی آزادی ہے۔ان کے راستے میں رخنے ڈال رہے ہیں۔یہاں پر بھی انہوں نے ایک بار پھر مسلمانوں سے کانگرس میں شامل ہونے کی اپیل کی۔اور اسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک اور احراری لیڈر مظہر علی اظہر صاحب نے انتباہ کیا کہ کانگرس سے علیحدہ رہ کر مسلمان کہیں کے نہ رہیں گے۔(۶) رفتہ رفتہ یہ نوبت آئی کہ احرار نے کانگرس اور سکھوں کی اکالی پارٹی کے ساتھ یوم آزادی کے مشترکہ جلسوں کا انعقاد شروع کر دیا۔(۷) جب کیبنٹ مشن ہندوستان پہنچا تو اس اہم موقع پر مجلس احرار کی مجلس عاملہ نے یہ قرارداد منظور کی جہاں تک مسلم لیگ کے نظریہ پاکستان کا تعلق ہے مجلس عاملہ کسی صورت میں بھی اس سے اتفاق نہیں کر سکتی۔۔۔مسلم لیگ کی قیادت مسلمانوں کو ایک غیر منظم قوم اور بے ہنگام گروہ کی حیثیت دینا چاہتی ہے۔لہذا یہ اجلاس ایک بار پھر اعلان کرتا ہے، کہ مسلم لیگ کی