سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 343 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 343

343 میں مفاہمت کے لیے کام کرے گا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک مسودہ سلامتی کونسل میں پیش کیا تھا جو ان دیگر شکایات پر مشتمل تھا جو پاکستان کو بھارت سے تھیں۔آئینگر کا اصرار تھا کہ یہ دیگر اختلافات آپس میں بات چیت کے ذریعہ طے کر لیے جائیں گے، اس وقت سلامتی کونسل کشمیر کے قضیہ کا فیصلہ کرے۔یہ قرارداد ان توقعات کے مطابق نہیں تھی جن کو لے کر ہندوستان سلامتی کونسل میں آیا تھا۔ان کو امید تھی کہ با آسانی پاکستان کو جارح قرار دے کر ایک قرارداد کے ذریعہ پاکستان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کشمیر میں مداخلت بند کرے۔اس پر مزید یہ کہ اس کمیشن کے دائرہ اختیار میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین دیگر اختلافات کو بھی داخل کر دیا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں جونا گڑھ جیسے مسائل بھی زیر غور آ سکتے تھے اور بھارت کے مندوب آئینگر اس امر پر بھی خوش نہیں تھے۔برطانیہ کے وزیر نوئل بیکر نے قرار داد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر جلد حل ہوا چاہیے اور پاکستان کی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ دیگر معاملات کو سلامتی کونسل کے رو برو پیش کرے۔۲۳ جنوری کو بھارتی مندوب مسٹر سٹیلواڈ نے سیکیورٹی کونسل سے خطاب کیا۔اب تک یہ بحث ایک المیہ کے واقعات کے ارد گرد گھوم رہی تھی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اب تک جو ہوا وہ ہندوستان کے لیے غیر متوقع تھا۔انہیں اس معاملہ میں اپنی فتح کا یقین تھا۔لیکن اب معاملات ان کے نقطہ نظر سے الجھ گئے تھے۔مسٹر سٹیلواڈ نے اپنی تقریر کا آغاز ہی حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر ذاتی حملہ سے کیا۔اور تمام تقریر میں وہ حضرت چوہدری صاحب پر اپنا غصہ نکالتے رہے اور الزامات لگاتے رہے۔انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ پاکستان کے مندوب نے سکیورٹی کونسل میں پانچ گھنٹہ طویل تقریر کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔مجھے ان کی تقریر کی طوالت سے کوئی اختلاف نہیں۔لیکن اس تقریر نے ہندوستان کے سوچے سمجھے زہر کے اگلنے کا بھی ریکارڈ قائم کیا ہے۔پاکستان کے مندوب نے بہت سے غیر متعلقہ حقائق بیان کیے ہیں (ان کے نزدیک مشرقی پنجاب اور کپورتھلہ میں مسلمانوں کا قتلِ عام اور جونا گڑھ پر قبضہ غیر متعلقہ امور تھے ) ، بہت سے متعلقہ حقائق کو چھپایا ہے اور بہت سے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا ہے۔ہندوستان کی حکومت پر غلط اور جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں۔انہوں نے تقریر کے درمیان میں بھی بہت غم وغصہ کا اظہار