سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 25 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 25

25 شروع ہوئی۔رفتہ رفتہ سینکڑوں امریکن احمدیت میں داخل ہو گئے۔ان میں زیادہ تر تعداد سیاہ فام امریکن باشندوں کی تھی۔جولائی ۱۹۲۲ء میں شکاگو میں ایک مکان خرید کر اسے مسجد کی شکل دے دی گئی۔حضرت مفتی صاحب کے زمانے میں آٹھ مقامات پر جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے بعد حضرت مولوی محمد الدین صاحب کو امریکہ بھجوایا گیا۔۱۹۲۶ء میں آپ ہندوستان واپس آئے اور پھر دو برس تک امریکہ میں کوئی مرکزی مبلغ موجود نہیں تھا۔۱۹۲۸ء میں صوفی مطیع الرحمن بنگالی صاحب بطور مبلغ امریکہ تشریف لے گئے۔درمیان کے دوسالوں میں مرکزی مبلغ نہ ہونے کی وجہ سے مختلف جماعتوں میں مسائل اور فتنے نمودار ہوئے۔اور پٹس برگ کی جماعت میں انتشار پیدا ہوا۔کمزور لوگ اس ابتلاء میں علیحدہ ہو گئے اور بنگالی صاحب کی آمد پر از سر نو کام شروع کیا گیا۔اب تک احمدی مالی قربانیوں میں حصہ تو لیتے تھے مگر با قاعدہ ماہانہ چندہ لینے کا نظام موجود نہیں تھا۔۱۹۳۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کے ماتحت امریکہ میں نظام کے تحت ماہانہ چندہ جمع کرنے کا نظام رائج کیا گیا۔۱۹۳۵ء میں امریکہ میں لجنہ اماء اللہ کا قیام عمل میں آیا۔اور ابتداء میں شکاگو، پٹس برگ کلیولینڈ اور انڈیانو پولس میں لجنہ کی تنظیم قائم کی گئی۔امریکہ کی لجنات بسا اوقات اخلاص اور خدمت میں مردوں پر سبقت لے جاتی تھیں۔۱۹۳۸ء میں امریکہ میں مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی گئی۔اس دور میں باقاعدگی سے مشن میں ، درس گاہوں میں کلبوں میں اور گرجوں میں تبلیغی لیکچر ہوتے۔سیرت النبی ﷺ کے جلسے منعقد کر کے اہل امریکہ کو حسنِ انسانیت کی سیرت سے روشناس کرایا جاتا۔انفرادی تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا جاتا۔لٹریچر کے ذریعہ اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا جاتا۔اس طرح اس ملک میں احمدیت کا کارواں آگے بڑھ رہا تھا۔(۱ تا ۵) (۱) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد به ۱۹۳۴ء ۱۹۳۵ء ص ۴۴-۵۱ (۲) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء ص ۲۱۔۲۷ (۳) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء۔۱۹۳۹ء ص ۶۲ - ۶۹ (۴) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یه ۱۹۳۹ء - ۱۹۴۰ء ص ۹۴-۹۵ ( ۵ ) الفضل ۲۸ جون ۱۹۲۰ ء ص ۱ تا ۳