سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 333 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 333

333 مصلح موعودؓ نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بنیادی اصول بیان فرمایا۔پاکستان یا ہندوستان میں ریاستہائے کشمیر و حیدر آباد کی شمولیت کا فیصلہ بیک وقت ہونا چاہئیے۔خواہ حکمران یا خواہ عوام کو شمولیت کے فیصلے کا مجاز قرار دیا جائے لیکن دونوں ریاستوں کے فیصلہ کا معیار ایک ہی ہونا چاہئیے۔ساتھ ہی حضور نے ارشاد فر مایا کہ کشمیر کا پاکستان میں شامل ہونا اشد ضروری ہے۔کیونکہ اگر کشمیر ہندوستان میں شامل ہو گیا تو پاکستان کی سرحد پانچ سومیل لمبی ہو جائے گی۔اور حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔(۱۹) حقیقت یہی تھی کہ ریاستوں کے معاملے میں بنیادی اصول طے کئے بغیر اس تنازع کوحل کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی۔اگر صحیح وقت پر ایک اصول وضع کر کے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ خطہ بہت سے مصائب سے بچ سکتا تھا۔مہا راجہ ہندوستان سے الحاق کا اعلان کرتا ہے: لیکن اب حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ایک طرف تو کشمیری مسلمانوں کی آزاد فوج جسے اس وقت عوامی فوج کہا جاتا تھا ضلع پونچھ کے بیشتر علاقے پر قابض ہو چکی تھی اور یہاں پر صرف پونچھ شہر پر ڈوگرہ فوج کا قبضہ تھا۔اس کے علاوہ اکھنور تک راجوری اور میر پور کے اضلاع پر بھی آزاد افواج کا قبضہ تھا۔یہاں پر مہاراجہ کی فوج نوشہرہ کی مضبوط چھاؤنی میں اپنے قدم جمائے ہوئے تھی۔مظفر آباد کے محاذ پر بھی عوامی فوج سری نگر کی طرف بڑھ رہی تھی۔(۲۰) ۲۰ اکتوبر کو سرحد کے گورنر کو اطلاع ملی کہ محسود قبیلے کے نوسو افراد لاریوں میں کشمیر کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔ان کو ایک مقام پر روکنے کا حکم دیا گیا مگر یہ قافلہ پہلے ہی اس مقام سے نکل چکا تھا۔ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔دو ہزار کے قریب قبائلی ایبٹ آباد سے ہوتے ہوئے ۱۲۲ اکتوبر کو کشمیر میں داخل ہو گئے۔محسود کے علاوہ آفریدی اور وزیر قبیلے کے بہت سے مسلح افراد کشمیر میں داخل ہو رہے تھے۔سرحد پر ریاست کشمیر کی فوج ایسی پوزیشن میں موجود تھی کہ وہ ان غیر منظم حملہ آوروں کو روک سکتے تھے مگر ان کے مسلمان دستوں نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کر