سلسلہ احمدیہ — Page 332
332 مہاجن صاحب تھے جنہیں کانگرس کی طرف سے باؤنڈری کمیشن میں حج نامزد کیا گیا تھا اور جنہوں نے کمیشن میں ضلع گورداسپور کے مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کو دلوانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔اور جب اس فیصلے سے ہندوستان کو کشمیر تک رسائی مل گئی تو انہیں کشمیر کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ان کا تعلق کشمیر سے نہیں تھا۔انہوں نے وزیر اعظم بنتے ہی بیان دیا کہ جو لوگ موجودہ حکومت کے مقابل پر متوازی حکومت بنا رہے ہیں ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جیسا سلوک باغیوں سے کیا جاتا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کشمیر میں مسلح باغی بھجوا رہا ہے اور تعاون کرنے پر حکومت ہندوستان کا شکریہ ادا کیا۔( ۱۵ ) مہاجن صاحب کا اگلا قدم یہ تھا کہ انہوں نے کشمیری پنڈت راہنماؤں کو بلا کر انہیں مسلح کرنے کی پیشکش کی مگر شیخ عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس میں انہیں خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ریاست کی افواج کو اب متوقع جنگ کے لئے مختلف مقامات پر بالخصوص پاکستان کے ساتھ سرحد پر بھجوانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ڈوگرہ فوج نے سرحد کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کے دیہات پر حملہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔اور اس وقت پاکستان کی حکومت اس حالت میں نہیں تھی کہ اپنی ساری سرحد کی حفاظت کر سکے، البتہ اس پر کشمیر کی حکومت سے احتجاج کیا گیا (۱۶ تا ۱۸)۔ایک دوسرے پر اعتماد کے فقدان کے باعث مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔اب باہمی تناؤ کی کیفیت سے لگ رہا تھا کہ اس مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔اس مرحلے پر صورت حال یہ تھی کہ کشمیر کا راجہ ہندو تھا اور رعایا کی اکثریت مسلمان تھی اور ابھی کشمیر نے کسی ملک کے ساتھ الحاق کا اعلان نہیں کیا تھا مگر آثار واضح تھے کہ جلد ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا جائے گا۔پاکستان کا مؤقف تھا کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہئیے۔حیدر آباد کا حکمران مسلمان تھا اور رعایا کی اکثریت ہند و تھی حیدر آباد کی ریاست نے بھی ابھی کسی ملک کے ساتھ الحاق کا اعلان نہیں کیا تھا مگر ہندوستان کی حکومت کا اصرار تھا کہ حیدر آباد کا الحاق ہندوستان کے ساتھ ہونا چاہئیے۔جونا گڑھ کے مسلمان نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا تھا لیکن ہندو آبادی کی اکثریت ہندوستان کے ساتھ الحاق کی خواہاں تھی اور ہندوستان کا مؤقف تھا کہ جونا گڑھ کا الحاق عوام کی مرضی کے مطابق ہندوستان کے ساتھ ہونا چاہئیے اور اس الحاق کو حکومت ہندوستان نے تسلیم نہیں کیا تھا۔اس مرحلے پر حضرت