سلسلہ احمدیہ — Page 328
328 کے فوراً بعد نواب جونا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔کچھ تاخیر کے بعد پاکستان نے اس الحاق کو منظور کر لیا۔ہندوستان کی حکومت نے اس الحاق پر حکومت پاکستان سے احتجاج کیا اور اس الحاق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔کاٹھیا وارڈیفنس فورس کے نام سے ایک فوج تیار کی گئی۔اور ہندوستان کی فوج اور ملحقہ ہندو ریاستوں کی فوجیں جونا گڑھ کی سرحدوں پر جمع ہونا شروع ہو گئیں۔اور یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء کو گاندھی جی کے ایک قریبی رشتہ دار سملد اس گاندھی کی صدارت میں بمبئی میں جونا گڑھ کی ایک متوازی حکومت قائم کر دی گئی۔اس کے بعد ریاستوں کا مسئلہ بالکل ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔اگر راجہ سے اختلاف کی وجہ سے جونا گڑھ کے لوگوں کا حق تھا کہ وہ اپنی حکومت کا اعلان کر دیں تو پھر یہ حق کشمیر کے لوگوں کو بھی حاصل تھا۔اور کشمیر میں تو مسلمان قتل و غارت کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ان کے دیہات جلائے جا رہے تھے۔ان کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔جبکہ جونا گڑھ میں یہ صورتِ حال نہیں تھی۔اگر ہندوستان کو یہ حق حاصل تھا کہ مطالبہ کرے کہ جونا گڑھ کا الحاق صرف حکمران کی مرضی کی مطابق نہیں بلکہ عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے تو یہ حق پاکستان کو بھی تھا کہ یہ مطالبہ کرے کہ کشمیر کا الحاق وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہو ، صرف کشمیر کے راجہ کو فیصلے کا حق نہیں ہونا چاہئیے۔مگر دوسری طرف یہ واضح نظر آرہا تھا کہ کشمیر کا راجہ پاکستان سے الحاق نہیں کرے گا۔کشمیر کی متوازی حکومت: اس سے پہلے بھی وزیر اعظم پاکستان کی صدارت میں ایک اجلاس ہو چکا تھا، جس میں کشمیری لیڈر بھی شامل ہوئے تھے اور اس اجلاس میں کشمیر میں متوازی حکومت بنانے کے سوال کو زیر غور لایا گیا تھا۔کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد یوسف صراف صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے علاوہ ،میاں افتخار الدین صاحب، فیض احمد فیض اور چوہدری حمید اللہ صاحب بھی شامل تھے۔اس کمیٹی کے سپر د کشمیر کا اعلان آزادی تیار کرنا تھا (۷) کشمیر کی مسلم کانفرنس کے بہت سے لیڈر پاکستان میں پناہ لئے ہوئے تھے۔انہوں نے یکم اکتو بر کو اس بات کا اعلان کر دیا کہ اب کشمیر کے عوام کشمیر کی ایک عبوری حکومت