سلسلہ احمدیہ — Page 315
315 ہمیں اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ اگر اس تجویز سے کوئی فائدہ ہو ابھی تو وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فساد کی نسبت بہت تھوڑا ہوگا۔یہ کلیتاً قانونی جواز سے عاری ہے۔ہمیں ان دوستوں اور ساتھی مندوبین سے کوئی گلہ نہیں جنہیں شدید دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی رائے بدلیں اور ایسی تجویز کے حق میں ووٹ دیں جو عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔ہمیں تو ان سے ہمدردی ہے کہ انہیں اس شرمندگی سے دو چار ہونا پڑا کہ ایک طرف ان کی اپنی رائے اور ان کا ضمیر تھا اور دوسری طرف وہ دباؤ تھا جو اُن کی حکومتوں پر ڈالا جا رہا تھا۔جو فیصلہ ابھی کیا گیا ہے پاکستان اس کی ذمہ داری سے اپنے ہاتھ دھونا چاہتا ہے۔اس لئے اقوام متحدہ کا جو کمیشن اس فیصلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے قائم کیا جائے گا پاکستان اس کی تشکیل میں کوئی حصہ نہیں لے گا۔امریکہ سے واپس آتے ہوئے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب شام ٹھہرے جہاں عرب ممالک کا اجلاس ہورہا تھا۔آپ نے شام کے صدر صاحب المعالی شکری القوتلی کو تمام تفاصیل سے آگاہ کر دیا۔اس دواران انہوں نے حضرت چوہدری صاحب سے مشورہ لیا کہ ہم اسرائیل کے قیام کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں؟ اس کے جواب میں حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا کہ اس معاملے میں میری رائے کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ مجھے آپ کی جنگی طاقت کا کوئی علم نہیں البتہ میں اس قدر عرض کر دیتا ہوں کہ اس سوال پر غور کرتے ہوئے آپ صاحبان یہ امر ضرور ذہن میں رکھیں کہ اسرائیل کے لئے سمندر کھلا ہوگا۔امریکہ کے یہودی طبقہ کی طرف سے جو بہت مالدار ہے اسرائیل کو ہر قسم کی مدد پہنچنے کی توقع ہو سکتی ہے اور اسرائیل کی جنگی تیاری اور تربیت آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔(۱۱) وقت نے ثابت کیا کہ چوہدری صاحب کا خدشہ بالکل درست تھا۔عرب ممالک کو اسرائیل کی تیاری کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔جب جنگ شروع ہوئی تو اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ فلسطین کے مظلوم عرب باشندوں کے ہاتھ سے رہے سہے علاقے بھی نکل گئے۔اور اسرائیل نے ان پر غاصبانہ قبضہ کر کے ان کو اپنے وطن سے باہر دکھیل دیا۔