سلسلہ احمدیہ — Page 313
313 رائے شماری ہوتی ہے۔لیکن تقسیم کے حامی بڑی مشکل سے دباؤ ڈال کر مطلوبہ ووٹوں کے قریب پہنچے تھے۔وہ کسی قیمت پر اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ صلح اور مفاہمت کے نام پر مزید وقت لیا جائے اور اُن کا منصوبہ ناکام ہو جائے۔اس دوران بیٹی کے نمائندے حضرت چوہدری صاحب سے ملے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔انہوں نے کہا کہ میری رائے تو آپ سن چکے ہیں لیکن اب میری حکومت نے مجھے ہدایت دی ہے کہ ہم تقسیم کے حق میں رائے دیں۔۲۹ نومبر کی شام کو دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔۔لبنان نے ممکنہ مفاہمت کے کچھ خدو خال بیان کئے۔ایران اور شام نے کوشش کی کہ دوبارہ معاملہ ایڈ ہاک کمیٹی کی طرف بھیجوایا جائے تاکہ غور کر کے مفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے۔لیکن امریکہ اور سوویت یونین کا اصرار تھا کہ ابھی رائے شماری کرائی جائے۔جنرل اسمبلی کے صدر نے رائے شماری کرائی تقسیم کے حق میں ۳۳ ووٹ آئے ، خلاف ۱۳ ووٹ ملے اور دس ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔اس طرح تقسیم کی قرار داد منظور ہوگئی اور دنیا کی سیاست میں ایک اور سیاہ باب کا آغاز ہوا۔فلپائن اور بیٹی جنہوں نے دو روز قبل واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اس تجویز کے خلاف ووٹ دیں گے انہوں نے بھی اس کی تائید میں ووٹ دیا۔اگر ان کے ووٹ شامل نہ ہوتے تو یہ قرارداد مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکتی تھی۔لائیبیریا نے بھی تقسیم کے حق میں رائے دی۔ناجائز دباؤ کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا تھا کہ دو دن میں کچھ ممالک کی آراء بالکل بدل گئیں۔کیا اس دوران فلسطین کے عربوں کی تعداد کم ہو گئی تھی یا یہودیوں کی تعددا زیادہ ہوگئی تھی یا فلسطین کا جغرافیہ تبدیل ہو گیا تھا۔آخر کیا ہوا تھا کہ ان کی رائے تبدیل ہوگئی؟ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب عرب حکومتوں کو صورتِ حال سے مطلع کرتے ہیں: جنرل اسمبلی کے برخواست ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا۔اور یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ فیصلہ کیا ہو گا۔اب حسب ہدایت حضرت چوہدری صاحب نے بہت جلد وطن واپس جانا تھا۔متوقع فیصلہ کے