سلسلہ احمدیہ — Page 21
21 بناتے رہے۔پندرہویں صدی میں اس پر ترکی کی سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہو گیا اور وہ صدیوں تک اس ملک پر حکمران رہے۔یہاں کی اکثریت عیسائی مذہب سے وابستہ تھی۔سلطنت عثمانیہ کا حصہ بننے کے سوسال بعد تک تو بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا مگر اس کے بعد یہاں کی آبادی تیزی سے مسلمان ہونے لگی۔مؤرخین کے مطابق اس وقت البانیہ کے پادریوں کی اکثریت نہ صرف مذہبی علم سے بے بہرا تھی بلکہ ان میں سے بہت سے صحیح طرح لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ان کی زبوں حالی سے چرچ کمزور ہونے لگا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے عیسائیت کو الوداع کہنا شروع کر دیا۔(۱) بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں کے اکثر مسلمان حنفی فرقہ سے وابسطہ تھے اور طریقت کے مختلف فرقوں کے پیروکار تھے۔ان کے علاوہ مختلف فرقوں کے عیسائی بھی موجود تھے اور کیتھولک اور امریکن مشن بھی کام کر رہے تھے۔تعلیم اور ملک کی ترقی کے لحاظ سے یہ یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر اپریل ۱۹۳۶ء میں مولوی محمد دین صاحب البانیہ کے لئے روانہ ہوئے اور دو ماہ کے سفر کے بعد وہاں پہنچے۔آپ کی آمد سے قبل ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام وہاں تک پہنچ چکا تھا۔ابھی آپ کو مقامی زبان نہیں آتی تھی مگر محدود پیمانے پر تبلیغ کا کام شروع ہو اور ایک خاندان احمدیت میں داخل ہو گیا۔اس کے علاوہ کچھ لوگ زبانی طور پر احمدیت کی تصدیق کرنے لگے۔اس دوران ایک عالم سے مناظرہ ہوا، جس کے نتیجے میں مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔علماء نے مبلغ احمدیت کے خلاف اشتعال انگیز خطبات دینے شروع کئے اور اس کے نتیجے میں مولوی محمد دین صاحب کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مخالفت کی وجہ سے تین ماہ کے مختصر عرصہ کے بعد ہی آپ کو البانیہ چھوڑنا پڑا۔آپ پہلے ہنگری اور پھر وہاں سے یوگوسلاویا چلے گئے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ملک کمیونسٹ بلاک میں چلا گیا۔اور ۱۹۶۷ء میں حکومت نے البانیہ کو دہریہ ریاست قرار دے کر تمام مساجد اور گرجے بند کر دیئے اور تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگادی۔(۲-۳) - (۱)The Preaching of Islam ,by T۔W۔Lawrence,published by Low Price Publication Delhi 2001,177-192 (۳)The Sunrise December 23, 1939,page 43 (۲) ریویو آف ریلیجنز اردو جولائی ۱۹۴۱ء ص ۴۶۔۵۰