سلسلہ احمدیہ — Page 20
20 20 بھی ملتا تھا مگر مسلمانوں کے اماموں اور مفتی صاحب کو دینی امور میں کم ہی دلچسپی تھی۔(۴) پولینڈ کے مفتی صاحب یعقوب سلیمان سینکیویز ( Szynkiewicz) صاحب نے ۱۹۳۷ء میں ہندوستان کا دورہ کیا اور مارچ کے مہینے میں قادیان آ کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ملاقات کی۔اس ملاقات کے بعد حضور نے احمد خان ایاز صاحب کو پولینڈ جا کر تبلیغ کا آغاز کرنے کا ارشاد فرمایا۔ان مفتی صاحب کے غیر ملکی دوروں کا مقصد مالی مدد کا حصول تھا کیونکہ ۱۹۳۹ء میں انہوں نے مصر جا کر شاہ فواد سے ملاقات کی تھی اور شاہ فواد نے انہیں آرڈر آف نائیل سے نوازنے کے علاوہ مساجد کی تعمیر کے نام پر پانچ سو پونڈ کی مدد بھی دی تھی۔(۴-۵) احمد خان ایاز صاحب ۱۲۲ اپریل ۱۹۳۷ء کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پہنچ گئے۔وارسا میں مناسب جگہ نہ ملی تو شہر سے میل پر ایک نئی بستی Boernerowo میں کمرہ حاصل کر کے کام کا آغاز کیا۔جلد ہی الجیریا سے تعلق رکھنے والے عربی کے ایک لیکچرار احمد خاربی صاحب نے احمدیت قبول کر لی۔(۴) احمد خان ایاز صاحب کی کاوشیں جلد ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے لگیں۔اخبارات میں ان کے انٹرویو اور جماعت کا تعارف شائع ہونے لگا۔مگر اتنی ہی جلدی مخالفین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا اور ۱۳ جنوری ۱۹۳۷ء کو حکومت پولینڈ نے انہیں عیسائیوں اور بعض مسلمانوں کی شکایت پر پولینڈ سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔اس طرح پولینڈ میں تبلیغ کی پہلی کوشش ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعد بند کرنی پڑی۔(۹،۸،۷،۶) (۱)Glimpses of Islamic World by S۔Ganjoo,published by Anmol publications Pvt۔Ltd New Dehli, 2004, page 107 (۲) افضل ۱۲ دسمبر ۱۹۳۷ء ص ۵ (۳) الفضل (۲۹ جون ۱۹۳۷ء ص ۵ (۴) افضل ۱۶ مئی ۱۹۳۷ ء ص ۶ (a)Polish-Egyptian Relations XV-XXc by Prof۔Jozef Wojcicki(on internet) (۶) الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۳۷ء ص ۵ (۷) الفضل ۱۲۶ اکتوبر ۱۹۳۷ء ص ۷ ( ۸ ) الفضل ۲۹ جون ۱۹۳۷ء ص ۵ البانية: (4) The Sunrise September 11,1937 page 9 اس دور میں البانیہ یورپ میں اسلام کا ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا۔پہلے یہ علاقہ ایک عرصہ تک رومی اور بازیطانی سلطنتوں کے ماتحت رہا۔اور ان کے علاوہ بھی بہت سے حملہ آور اسے اپنا نشانہ