سلسلہ احمدیہ — Page 293
293 حاصل ہی نہیں۔مصر کے نمائندے نے انتباہ کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف فلسطین میں بلکہ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی یہودیوں کی جانوں کو خطرہ ہو جائے گا۔(۸) جب یہ تجویز پیش کی گئی کہ فلسطین کو ایک متحدہ اور جمہوری ریاست کی شکل دینی چاہئیے جس میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔اس تجویز کے حق میں صرف بارہ ،اس کے خلاف انتیس ووٹ ملے اور چودہ اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔اس طرح یہ تجویز نا منظور ہوگئی۔اب وہ ترمیم شدہ تجویز پیش کی گئی جو اس سب کمیٹی نے تیار کی جس کے ممبروں میں امریکہ اور سوویت یونین بھی شامل تھے۔اس تجویز میں فلسطین کو تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا اور ایک یہودی ریاست کی تجویز پیش کی گئی تھی۔اس تجویز کی تائید میں بچھپیں ووٹ آئے۔اس کے خلاف تیرہ ووٹ اور سترہ اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔کمیٹی کے اندر یہ تجویز منظور تو ہو گئی لیکن یہ امر ظاہر تھا کہ ابھی اس تجویز کو پچاس فیصد اراکین کی حمایت بھی حاصل نہیں اور ایک بڑی تعداد غیر جانبدار رہنے میں عافیت سمجھ رہی ہے۔اب یہ تجویز جنرل اسمبلی میں پیش ہوئی تھی۔بڑی طاقتوں کو یہ مشکل در پیش تھی کہ جنرل اسمبلی کے اندر قرارداد کو منظور کرانے کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔اور اس تناسب کے ساتھ یہ قرارداد وہاں منظور نہیں ہو سکتی تھی۔ابھی مختلف ممالک پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی تا کہ وہ بھی بڑی طاقتوں کی پیش کردہ تجویز کی حمایت پر آمادہ ہو جائیں۔وہ تیرہ ممالک جواب تک اس قرارداد کی مخالفت پر قائم تھے وہ افغانستان، کیوبا،عراق ،مصر، بھارت، ایران، لبنان، پاکستان ، سعودی عرب ، سیام، شام ، ترکی اور یمن تھے۔اس طرح عرب ممالک اور مسلمان ممالک کے علاوہ صرف بھارت، کیوبا اور سیام ہی اس قرارداد کی مخالفت کر رہے تھے۔اور ان میں سے ایک ملک یعنی سیام کی حکومت اس کا روائی کے دوران تبدیل ہو چکی تھی۔عرب ممالک کی طرف سے شدید جذبات کا اظہار ہو رہا تھا۔سعودی عرب کے نمائندے شہزادہ فیصل (جو بعد میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے ) نے بیان دیا کہ اگر جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کی قرارداد منظور کی تو سعودی عرب جنرل اسمبلی سے علیحدہ ہو جائے گا۔اس کی تائید میں یہ بیانات آنے شروع ہوئے کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو عرب ممالک کو اقوام متحدہ کی رکینیت چھوڑ دینی چاہئیے۔(۹)