سلسلہ احمدیہ — Page 292
292 باوجود اس بنیادی مسئلہ پر ابھی تک پچاس فیصد اراکین بھی بڑی طاقتوں کے ہمنوا نہیں بنائے جاسکے تھے اور ایک بڑی تعداد غیر جانبدار رہنے پر مجبور تھی۔سب سی بڑی بات یہ تھی کہ بعض ممالک جو دباؤ کے تحت امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو چکے تھے اس نکتے پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تجویز کی حمایت کر رہے تھے کہ پہلے عالمی عدالت انصاف سے استفسار کرنا چاہئیے کہ آیا جنرل اسمبلی قانونی طور پر اس فیصلہ کی مجاز بھی ہے کہ فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے۔چنانچہ فرانس، یونان، برازیل اور ایل سیلواڈور نے بھی اس تجویز کی حمایت میں ووٹ دیا اور برازیل کے پاس اُس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت بھی تھی۔غالباً اس طرح یہ ممالک اپنے ضمیر کا بوجھ بھی ہلکا کرنا چاہتے تھے اور عالمی عدالت انصاف کی طرف بھجوا کر اس مسئلہ سے اپنی جان بھی چھڑانا چاہتے تھے۔لیکن چونکہ کمیٹی کے اندر جس رائے کی طرف زیادہ اراکین کی آراء ہوں وہ منظور ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ تجویز منظور نہ ہو سکی کہ یہ سوال عالمی عدالت انصاف کی طرف بھیجوایا جائے۔فلسطینیوں کی حمایت میں اچانک اس طرح کا قانونی سوال اُٹھ جانا اور اس کی تائید میں اچھے خاصے اراکین کا رائے دینا اُن بڑی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا جو تقسیم کی حمایت میں مہم چلا رہی تھیں۔اور یہ امر اُن کی لئے خاصی پریشانی کا باعث تھا۔۲۵ نومبر کے اجلاس میں سوویت یونین کے نمائندے نے جھنجلائے ہوئے انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال Mandatory Power یعنی برطانیہ کی طرف سے پہلے نہیں اُٹھایا گیا تھا۔پہلے یہ سوال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نہیں اُٹھایا گیا تھا۔پہلے یہ سوال فلسطین پر سپیشل کمیٹی میں نہیں اُٹھایا گیا تھا۔اب اچانک کچھ لوگ سامنے آکر کہہ رہے ہیں کہ جنرل اسمبلی کو یہ اختیار ہی نہیں ہے۔اسی کارروائی میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم فلسطین کی تجویز کو چار سوالوں کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئیے۔پہلے یہ کہ قانونی طور پر اس فیصلے کو کرنے کا اختیار بھی ہے کہ نہیں؟ دوسرے یہ کہ کیا یہ فیصلہ قابل عمل بھی ہے کہ نہیں؟ تیسرے یہ کہ کیا یہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ چوتھے یہ کہ کیا اس سے یہ مسئلہ حل ہو گا ؟ ان سب سوالات کے جواب میں اقوام متحدہ صرف نفی میں ہی دے سکتی ہے۔حضرت چوہدری صاحب نے نمائیندگان کی توجہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف مبذول کرائی اور فرمایا کہ اس چارٹر کی رو سے جنرل اسمبلی کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار