سلسلہ احمدیہ — Page 285
285 تاثر غلط ہے۔فلسطین کو تقسیم کرنے کی تجویز نا قابل عمل ہے۔برطانوی حکومت کا منصوبہ ہے کہ دس سال کے اندر فلسطین کو خود مختاری دے دی جائے اور ایک ایسی ریاست قائم کی جائے ،جس کی حکومت میں یہودی اور مسلمان دونوں شرکت کریں۔اور اب فلسطین میں مزید یہودیوں کی آمد سے فلسطین کے مقامی لوگوں کے حقوق پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے آئیندہ پانچ سال میں صرف ۷۵۰۰۰ ہزار یہودیوں کو یہاں آنے کی اجازت دی جائے گی۔اور اس کے بعد مزید یہودیوں کو صرف اُس صورت میں فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت ہو گی اگر مقامی عرب آبادی کو اس پر اعتراض نہ ہو۔اور عربوں کی زرعی زمین کو غیر عربوں کے نام منتقل ہونے پر کنٹرول کیا جائے گا اور فلسطین میں مقیم ہائی کمشنر اس ممانعت کی نگرانی کرے گا اور اسے کنٹرول کرے گا۔اس اعلان کی اشاعت کے کچھ ہی عرصہ کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہو گیا اور تمام دنیا اور برطانوی حکومت کی توجہ دوسرے امور کی طرف ہوگئی۔فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش ہوتا ہے: دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی صورت حال بالکل بدل چکی تھی۔اور اب فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن رہا تھا۔۱۹۴۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دو اجلاسوں میں فلسطین کا مسئلہ پیش ہوا۔ستمبر ۱۹۴۷ء میں منعقد ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک ایڈ ہاک کمیٹی قائم کی گئی۔اس کمیٹی کو فلسطین کے مسئلہ پر تجاویز مرتب کرنے کا کام سونپا گیا۔اب تک یہ بات تو واضح ہو چکی تھی کہ امریکہ نہ صرف مکمل طور پر یہودیوں کی تجویز کی حمایت کر رہا ہے کہ فلسطین کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ایک حصہ یہودیوں کو دیا جائے اور دوسرا حصہ فلسطین کے مقامی لوگوں کے سپرد کیا جائے، بلکہ وہ دیگر ممالک پر بھی ہر قسم کا دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس تجویز کی حمایت کریں۔لیکن اس کے ساتھ سوویت یونین کے رویہ میں بھی ایک پر اسرار تبدیلی آئی۔اب سے پہلے تو وہ عربوں کی حمایت کا دم بھر رہا تھا لیکن اچانک اس نے اپنے تیور بدلے اور یہودیوں کی علیحدہ ریاست کی بھر پور حمایت شروع کر دی۔اب صورت حال یہ تھی کہ دنیا کی دوسب سے بڑی طاقتیں یہودی ریاست کی حمایت بھی کر رہی تھیں اور دوسرے ملکوں پر بھی دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ بھی فلسطین