سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 284 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 284

284 اور ان خدشات کے تدارک کی کوشش کریں۔دو تین دن بعد نو آبادیات کے وزیر نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ملاقات کے لئے بلایا اور کہا کہ خوش قسمتی سے سر آرتھر وانچوپ ، ہائی کمشنر فلسطین بھی لندن آئے ہوئے ہیں۔میں نے انہیں بھی بلایا ہے تا کہ وہ بھی تمہارے خیالات سے واقف ہو جائیں۔حضرت چوہدری صاحب نے ان دونوں کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اس پر وزیر موصوف نے کہا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ آہستہ آہستہ عرب اراضی غیر عربوں کے قبضے ہے۔میں جا رہی ہے لیکن اس کا تدارک تو عرب ہی کر سکتے ہیں ، حکومت اس سلسلے میں کیا کر سکتی۔چوہدری صاحب نے فرمایا کہ حکومت اس انتقال اراضی کو قانونا روک سکتی ہے۔وزیر صاحب نے کہا کہ میرے علم میں تو ایسا قانون کہیں پر رائج نہیں۔میں اپنے رفقاء کو اس پر کیسے آمادہ کرلوں؟ اس کے جواب میں چوہدری صاحب نے فرمایا کہ قانون کی ضرورت مسلم ہو تو پھر نظائر کی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن اس قسم کے قانون کی مثال ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں موجود ہے۔جہاں پر پنجاب انتقال اراضی ایکٹ کے تحت زرعی اراضی کا انتقال ایک غیر زراعت پیشہ مشتری کے حق میں نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد آپ نے اس قانون کے عملی حصہ کی کیفیات مختصر طور پر بیان فرمائیں۔اور مسئلہ فلسطین کے بعض پہلؤوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن وزیر موصوف کے رویہ پر چوہدری صاحب کو بہت مایوسی ہوئی کیونکہ یہ نظر آ رہا تھا کہ انہیں عربوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔(۴) حالات بگڑتے رہے۔پورے فلسطین میں خون ریز فسادات ہو رہے تھے۔صورتِ حال حکومت کے ہاتھوں سے نکل رہی تھی۔آخر کار ۱۹۳۹ء میں برطانوی حکومت کو وہی اقدامات اُٹھانے پڑے جن کا مشورہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ۱۹۳۴ء میں دیا تھا۔حکومت کی طرف سے ایک قرطاس ابیض شائع کیا گیا۔اس میں یہ واضح کیا گیا کہ برطانوی حکومت کو لیگ آف نیشنز کی طرف سے جو مینڈیٹ ملا تھا اور بالفور اعلانیہ (Balfour Decleration) میں فلسطین کے اندر ایک Jewish Home بنانے کا ذکر تھا۔اس سے مراد صرف یہ تھی کہ یہودیوں کو فلسطین میں نقل مکانی کرنے اور وہاں پر آباد ہونے کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔لیکن بعض حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس سے مراد یہ تھی کہ فلسطین میں یہودیوں کی ایک علیحدہ ریاست قائم کی جائے گی۔یہ