سلسلہ احمدیہ — Page 273
273 رہا ہوں تاکہ مسلمانوں میں صالحین کی ایک جماعت تو ہو۔اور پھر اعلان کیا کہ معاملات دنیا کی زمام کار صالحین کے ہاتھوں میں منتقل ہونی ضروری ہے۔قصہ مختصر یہ کہ صرف ہم ہی اقتدار کے حقدار ہیں۔کچھ دیر ٹھہر کر دیکھتے ہیں علماء کی اس خیالی مملکت کے نمایاں خدوخال کیا تھے۔پہلی بات یہ ہے که مودودی صاحب کے نزدیک حکومتی معاملات میں جمہوریت لا دینیت کے ہم معنی تھی اور اسلام اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔جیسا کہ آزادی سے معاً قبل انہوں نے اعلان کیا تھا دمسلمانوں سے میں صاف صاف کہتا ہوں کہ موجودہ زمانے کی بے دین قومی جمہوریت (Secular National Democracy) تمہارے دین و ایمان کے قطعاً خلاف ہے۔تم اس کے آگے سرتسلیم خم کرو گے تو قرآن سے پیٹھ پھیرو گے،اس کے صلى الله قیام و بقا میں حصہ لو گے تو اپنے رسول مہ سے غداری کرو گے اور اس کا جھنڈا اڑانے کے لئے اٹھو گے تو اپنے خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرو گے۔جس اسلام کے نام پر تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اس کی روح اس ناپاک ( سیکولر نظام کی روح سے اس کے بنیادی اصولوں سے اور اس کا ہر جز اس کے ہر جز سے برسرِ جنگ ہے۔(۱۸) بعد میں جب ۱۹۵۳ء میں فسادات پنجاب پر تحقیقات ہوئیں تو تحقیقاتی عدالت میں علماء نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ اگر پاکستان میں اصول اسلامی کے مطابق حکومت قائم کی گئی تو اس کی شکل جمہوری نہیں ہوگی۔(۱۹) اور بعض علماء تو اس معاملے مین اس قدر انتہا پسند تھے کہ ان کے نزدیک اب کوئی نئی قانون سازی کرنا بھی نا قابل معافی جرم تھا۔مثلا عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا نظریہ تھا، ہمارا دین کامل و مکمل ہے اور مزید قوانین وضع کرنا کفر کے برابر ہے۔(۲۰) مطلب بالکل واضح ہے اس نام نہاد اسلامی مملکت میں صرف نام نہاد علماء کو ہی اختیار ہوگا کہ وہ لوگوں کے لئے جو چاہیں اسلامی قوانین کے نام پر قوانین نافذ کریں۔اگر کسی اور نے قانون سازی کی جسارت کی تو فوراً اسے کا فرقرار دے کر زندگی کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔اس فرضی سلطنت کو سمجھنے کے لئے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جو حکومت لوگوں کی دینی حالت سدھارنے کے لئے کوشاں ہوگی اس کے زیر سایہ لوگوں کو اپنے ضمیر کے مطابق مذہب اختیار کرنے