سلسلہ احمدیہ — Page 265
265 اُس وقت علماء کا یہ گروہ اُن لوگوں کے متعلق کن خیالات کا اظہار کر رہا تھا جو پاکستان کے حصول کے لئے جد و جہد کر رہے تھے۔یہاں پر ہم مودودی صاحب اور ان کی پارٹی جماعتِ اسلامی کے خیالات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیں گے کیونکہ گذشتہ ساٹھ برس میں پاکستان کے اندر ان کی پارٹی نے سیاسی اقتدار کی دوڑ میں اسلامی نظام کے نام کو سب سے زیادہ استعمال کیا ہے۔مودودی صاحب مسلم لیگ کے قائدین کی کاوشوں کا جائزہ لے کر لکھتے ہیں یہ اپنی قومی اور دنیوی لڑائی میں بار بار اسلام اور مسلم کا نام لیتے ہیں جس کی وجہ سے اسلام خواہ مخواہ ایک فریق جنگ بن کر رہ گیا ہے اور غیر مسلم قومیں اس کو اپنا سیاسی اور معاشی حریف سمجھنے لگیں ہیں۔اس طرح انھوں نے نہ صرف اپنے آپ کو اسلام کی دعوت کے قابل نہیں رکھا ہے بلکہ اسلام کی اشاعت کے لئے اتنی بڑی رکاوٹ پیدا کر دی ہے کہ اگر دوسرے مسلمان بھی یہ کام کرنا چاہیں گے تو غیر مسلموں کے دلوں کو اسلام کے لئے مقفل پائیں گے۔(۹) تو گویا جب برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے اپنے سیاسی حقوق کے نام پر تحریک چلائی تو مودودی صاحب کا خیال تھا کہ یہ اسلام کی ترقی کی راہ میں خواہ مخواہ کی ایک روک پیدا کی جارہی ہے۔پھر تحریک پاکستان کا جائزہ اپنی مرصع اردو میں یوں لیتے ہیں اس میں شک نہیں کہ اس قوم پرستانہ دعوت کے ساتھ یہ لوگ کبھی کبھی اسلام کی خوبیاں اور اس کے اصولوں کی فضیلت بھی بیان کیا کرتے ہیں۔مگر اول تو قوم پرستی کے پس منظر میں یہ چیز ایک اصولی دعوت کے بجائے محض ایک قومی تفاخر بن کر رہ جاتی ہے اور مزید برآں دعوتِ اسلام کے ساتھ جن دوسری باتوں کی یہ آمیزش کرتے ہیں وہ بالکل اس دعوت کی ضد ہیں۔ایک طرف اسلامی نظام حکومت کی تبلیغ اور دوسری طرف اُن مسلمان ریاستوں اور حکومتوں کی حمایت جن کا نظام بالکل غیر اسلامی ہے۔ایک طرف اسلامی نظام معاشی کی تشریح اور دوسری طرف خود اپنی قوم کے قارونوں کی تائید اور مدافعت۔۔۔ایک طرف بے غرضانہ حق پرستی کا دعویٰ اور دوسری طرف شب و روز اپنی دنیوی مفاد کا ماتم۔ایک طرف اسلامی تہذیب و تمدن پر فخر و ناز اور اس کی حفاظت کے لیے