سلسلہ احمدیہ — Page 264
264 لئے قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانانِ ہند کے بہترین رہنما اور ترجمان ہیں۔جب پاکستان قائم ہو جائے گا۔اس وقت علماء دین کے مشورہ سے طرز حکومت قائم کی جائے گی۔(۷) اصل اغراض ابھی سے سامنے آ رہی تھیں۔جب تک تو تحریک چل رہی ہے، قربانیاں دینے کا وقت ہے اُس وقت تک تو قائد اعظم بہترین لیڈر ہیں۔گویا بعد میں ان کی ضرورت نہیں ہوگی۔جب ملک مل جائے گا اور حکومت کرنے کا وقت آئے گا تو جس طرح علماء کہیں گے اسی طرح حکومت چلائی جائے گی۔لیکن خود قائد اعظم کا اس بارے میں کیا خیال تھا ؟ ۱۹۴۴ء میں ایک صحافی نے آپ سے سوال کیا۔جب آپ اسلامی اصول کے تصور اور طریق دونوں میں بہترین اور برترین حکومت یقین فرماتے ہیں۔اور اجمالاً بھی کہتے ہیں کہ وہاں وہ اپنے ذہنی میلان اور حیات کے تصورات کو ممانعت کے بغیر رو بہ کار اور رو به تر قی لاسکیں تو پھر اس میں کون امر مانع ہے کہ زیادہ تفصیل اور توضیح کے ساتھ مسلم لیگ اپنی جد و جہد کی مذہبی تعبیر اور تشریح کرے؟ اس کا جواب قائد اعظم نے یہ دیا مذہبی تعبیر کے ساتھ ہی کام کی نوعیت ،اس کی حقیقی تقسیم عمل اور اس کے اصلی حدود کو سمجھے بغیر ہمارے علماء کی ایک جماعت ان خدمات کو صرف چند مولویوں کی اجارہ داری خیال کرتی ہے۔باوجود اہلیت اور مستعدی کے آپ کے یا میرے جذ بہ خدمت پورا کرنے کی کوئی صورت نہیں پاتی۔پھر اس منصب کی بجا آوری کے لئے جن اجتہادی صلاحیتوں کی ضرورت ہے ان کو میں الا ما شاء اللہ ان مولویوں میں نہیں پاتا۔وہ اس مشن کی تکمیل میں دوسروں کی صلاحیتوں سے کام لینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتے۔(۸) اس جواب سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ قائد اعظم کو اس بات کا احساس تھا کہ مولویوں کا ایک طبقہ اس بات کے لئے کوشاں ہوگا کہ قانون سازی کے کام پر اُن کی اجارہ داری ہو اور بانی پاکستان یہ بھی بخوبی جانتے تھے کہ یہ گروہ اس کام کا اہل نہیں ہے۔مجلس احرار جیسی جماعتیں کس طرح کانگرس کی حمایت اور مسلم لیگ کی مخالفت کر رہی تھیں اس کا جائزہ ہم ۱۹۵۳ء کے فسادات کے پس منظر میں لیں گے۔لیکن اس وقت ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ