سلسلہ احمدیہ — Page 259
259 قیام پاکستان کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر آزادی کے معاً بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے پاکستان کے مختلف مقامات پر کچھ اہم موضوعات پر لیکچر دیئے۔ایک نئی مملکت ہونے کی وجہ سے اُس وقت پاکستان طرح طرح کے مسائل اور چیلنجوں میں گھرا ہوا تھا۔حضور نے ان لیکچروں میں انہی مسائل کو موضوع بنایا۔ہم ان میں سے دوا ہم لیکچروں کا مختصراً ذکر کریں گے۔غیر ملکی قرضے نہ لینے کی نصیحت: قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو شدید مالی بحران کا سامنا تھا۔تقسیم کی طے شدہ تفصیلات کے مطابق جو ملک کو اثاثے ملنے چاہیئے تھے وہ ابھی تک نہیں ملے تھے۔اس صورت حال میں فوری طور پر اس بحران سے نمٹنے کے لئے امریکہ سے قرضہ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔آزادی کے پندرہ روز کے بعد ہی وزیر خزانہ غلام محمد صاحب نے کراچی میں امریکی ناظم الامور سے غیر رسمی بات چیت میں عندیہ دے دیا تھا کہ پاکستان امریکہ سے قرضہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس کے بعد پہلے خصوصی ایلچی اور پھر امریکہ میں پاکستان کے سفیر اصفہانی صاحب نے امریکی بینک اور وزارتِ خارجہ میں اس قرضے کے حصول کے لئے کوششوں کا آغاز کیا۔ابتداء میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پاکستانی حکومت کی کوشش تھی کہ ایک مالی مشن امریکہ کا دورہ کر کے قرضے کے حصول کے لئے بات چیت کرے۔مجوزہ قرضے کی رقم کچھ تھوڑی نہیں تھی بلکہ یہ تجویز کیا جا رہا تھا کہ ہیں کروڑ سے لے کر ساٹھ کروڑ ڈالر تک کی رقم کا قرضہ لیا جائے۔اخباروں میں بھی اس کی بابت خبریں شائع ہورہی تھیں۔(۱) حضرت مصلح موعودؓ نے کے اگست ۱۹۴۷ء کو لاہور میں ایک لیکچر دیا۔اور اس لیکچر میں حضور نے ملک کو در پیش مالی مسائل کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا لیکن بیرونی سلطنتوں خصوصاً امریکہ سے قرضہ لینا ہماری آزادی کے لئے زبردست خطرے کا باعث ہوگا لہذا اس کا علاج صرف یہ ہے کہ بیرونی