سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 254 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 254

254 ٹرنیڈاڈ اینڈ ٹو بیگو یہ دو جزائر جنوبی امریکہ کے انتہائی شمالی ساحل کے قریب واقع ہیں۔۱۸۹۷ء سے ان دونوں پر برطانیہ کا قبضہ تھا اور ا۳ اگست ۱۹۶۲ء کو یہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوئے۔اس چھوٹے سے ملک کا کل رقبہ ۱۹۸۰ء مربع میل ہے اور یہاں کی اکثریت افریقی باشندوں کی ہے۔اور ان کے علاوہ ہندو، یورپین چینی بھی یہاں آباد ہیں۔یہاں پر بسنے والوں کی اکثریت عیسائی ہے۔یہاں پر سب سے پہلے احمدیت کا پیغام ۱۹۲۴ء میں پہنچا۔وہاں ایک احمدی دوست مکرم شیخ ابراہیم منڈیزی (Mandazi) مقیم تھے جو اپنے طور پر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔اور قادیان سے خط و کتابت سے رابطہ بھی رکھتے تھے۔اُس وقت ان کے علاوہ بعض اور احمدی مثلاً داراب خان صاحب ہمسٹر ولیم بار کر اور مسٹر سٹوارٹ عبد الصادق بھی وہاں پر مقیم تھے۔اور اسی وقت سے وہاں پر احمدیت کی مخالفت بھی شروع ہوگئی تھی۔یہاں پر باقاعدہ مشن کا آغاز مکرم محمد الحق صاحب ساقی کے ذریعہ ہوا، جو ے مئی ۱۹۵۲ء کو ٹرینیڈاڈ پہنچے۔اور وہاں پر انفرادی رابطوں اور پبلک لیکچروں کے ذریعہ کچھ عرصہ تبلیغ کی۔نومبر ۱۹۵۲ء میں مکرم بشیر آرچرڈ صاحب ، جو اس سے پہلے سکاٹ لینڈ میں بطور مبلغ کام کر رہے تھے ٹرینیڈاڈ میں پہنچے۔مکرم محمد الحق صاحب کے زمانے میں زیادہ تر تبلیغ مسلمانوں میں کی جا رہی تھی مگر مکرم بشیر آرچرڈ صاحب نے عیسائیوں میں بھی اسلام کی تبلیغ کا کام زیادہ مؤثر انداز میں شروع کیا۔اور ۱۹۵۳ء میں ایک رسالہ احمدیت کے نام سے جاری کیا گیا۔اور جنوری ۱۹۵۳ء میں حضور کی منظوری سے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا اور اس طرح نظام جماعت قائم کیا گیا۔اس ملک میں احمدیت کے فروغ کے لئے ضروری تھا کہ وہاں کے مقامی احمدی مرکز آکر دینی تعلیم حاصل کریں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد احمدیت کی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیں۔چنانچہ دسمبر ۱۹۵۴ء میں وہاں سے مکرم محمد حنیف یعقوب صاحب ربوہ آئے اور جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔اور ۱۹۵۸ء میں وطن واپس جا کر اپنی عملی خدمات کا آغاز کیا۔