سلسلہ احمدیہ — Page 207
207 اپنی جانیں بچا کر نکل آنا چاہئیے۔روزنامہ احسان نے اپنی ۲۵ستمبر کی اشاعت میں قادیان کے حالات کا تفصیلی تجزیہ کیا اور اس کی سرخی یہ تھی قادیان کے باشندوں پر سکھ فوج اور پولیس کے بے پناہ مظالم ان لوگوں نے آخری وقت تک مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اس تجزیے میں اخبار نے لکھا " آخر قادیان کے متعلق ہندوؤں اور سکھوں کی سازشیں بروئے کار آئیں۔۲۱ ستمبر سے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔تازہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سکھ پولیس اور ہندو ملٹری کی مدد سے قادیان میں تباہی مچانا چاہتے ہیں۔اس وقت قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزیں جمع ہیں۔ہند و ملٹری اور سکھ پولیس کے ظلم وستم اور آئین سوز حرکات کے باوجود قادیان کے نو جوان ہراساں نہیں ہوئے۔وہ خندہ پیشانی کے ساتھ موت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔۔۔قادیان کے نوجوان ملٹری کے جبر و تشدد سے بالکل خوف زدہ نہیں۔وہ صرف اس بات کے خواہشمند ہیں۔کہ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔وہ خوب جانتے ہیں۔کہ اب وہ آہستہ آہستہ موت کے گھیرے میں آتے جاتے ہیں۔۔۔محکمہ حفاظت قادیان کے ماتحت کام کرنے والے نو جوان بعض اوقات چوبیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ادا کرتے اور رات دن پہرا دیتے ہیں گو نیند اور بے آرامی کی وجہ سے ان کی صحت کمزور ہو چکی ہے مگر وہ موت کے ڈر سے بھاگنے کی بجائے موت سے مقابلہ کرنے پر آمادہ ہیں۔“ روز نامه احسان میں ہی اسی روز حضور کے نام یہ اپیل شائع ہوئی کہ وہ اب قادیان کو تباہی سے بچانے کا خیال ترک کر دیں۔اس میں لکھا خلیفہ صاحب قادیان میں اپنی جماعت کو یہی مشورہ دے رہے ہیں۔کہ وہ قادیان کی حفاظت کے لئے آخری دم تک وہیں رہے۔خلیفہ صاحب کی یہ ہمت قابل دادضرور ہے۔۔۔لیکن حالات سے بے نیاز ہو کر کام کرنا اور ہزار ہا نہتے لوگوں کو اتنی آزمائش میں